بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
باطل مٹ گیا،بلاشبہ باطل کو مٹنا ہی تھا۔ (فتح الباری:۸/۱۴،الخصائص الکبری:۱/۲۶۴،سیرت صلی اللہ علیہ و سلم لمصطفیٰ۳/۲۷)کلید کعبہ : حق بہ حقدار رسید مختلف لوگ کلید بردار کعبہ ہونے کا شرف چاہتے ہیں ، ان میں عم رسول سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ بھی ہیں ؛ لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت عثمان بن طلحہ کو بلایا اور یاد دلایا کہ ہجرت سے قبل ایک بار تم نے میرے مانگنے پر یہ کلید نہیں دی تھی، میں نے کہا تھا کہ ایک دن آئے گا یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی، میں جسے چاہوں گا دوں گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے وہ کنجی انہیں کو دی، اور فرمایا کہ یہ تمہارا حق ہے، یہ قیامت تک تمہارے پاس رہے گی اور ظالم کے سوا تم سے کوئی اسے چھین نہ سکے گا۔ (المعجم الکبیر للطبرانی:۸۳۹۵، المغازی:للواقدی:۲/۸۳۸)خطاب نبوی اس کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بیت اللہ کے دروازے پر کھڑے ہوکر خطبہ دے رہے ہیں ، زبانِ نبوت سے حمد وثنا کے بعد یہ الفاظ جاری ہوتے ہیں : یَا مَعْشَرَ قُرَیْشٍ! إِنَّ اللّٰہَ قَدْ أَذْہَبَ عَنْکُمْ نَخْوَۃَ الْجَاہِلِیَّۃِ وَتَعَظُّمَہَا بِالآبَائِ، النَّاسُ مِنْ آدَمَ، وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ، یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَاُنْثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا، إِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ۔ اے قریش کے لوگو! بلاشبہ اللہ نے جاہلیت کا غرور اور آباء واجداد پر فخر تم سے ختم کردیا ہے ،تمام لوگ آدم کی اولاد ہیں ، آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ،اللہ فرماتا ہے :اے لوگو ! بلاشبہ ہم نے تم کو ایک مرد اورایک عورت کے اختلاط سے پیدا کیا ہے ، اور تم کو مختلف خاندانوں اور قبیلوں میں شناخت کے