بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
ایک مدت تک فترت و انقطاع وحی پہلی وحی کے بعد ایک مدت تک دوسری کوئی وحی نازل نہیں ہوئی، یہ انقطاع ایک تو اگلی وحی کا شوق پیدا کرنے کے لئے تھا، دوسرے پہلی وحی میں غور وفکر کے لئے تھا، تیسرے قوت برداشت پیدا کرنے کے لئے تھا، راجح قول کے مطابق یہ انقطاع ڈھائی سے تین سال کے درمیان تک رہا، اس انقطاع کی وجہ سے آپ اکو بڑی فکر اور غم تھا، کبھی تو آپ اشدتِ غم سے ارادہ کرتے کہ پہاڑ کی چوٹی سے اپنے کو گرادیں ، ایسے موقعوں پر ایک دم حضرت جبرئیل ظاہر ہوتے اور کہتے: یَا مُحَّمَدُ! إِنَّکُ رَسُوْلُ اللّٰہِ حَقَّاً۔(بخاری:التعبیر: باب اول ما بدیٔ الخ) اے محمد:بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم للہ کے رسول برحق ہیں ۔ پھر اس کے بعد دوسری وحی آئی، آپ افرماتے ہیں : بَیْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتاً مِنَ السَّمَائِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي، فَإِذَا الْمَلَکُ الَّذِيْ جَائَ نِي بِحِرَائَ جَالِسٌ عَلَی کُرْسِيٍّ بَیْنَ السَّمَائِ وَالأَرْضِ، فَرُعِبْتُ مِنْہُ، فَرَجَعْتُ، فَقُلْتُ: زَمِّلُونِي زَمِّلُوْنِي، فَأَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالَیٰ: {یَاأَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ،وَثِیَابَکَ فَطَہِّرْ،وَالرُّجْزَ فَاْہجُرْ، وَلَاتَمْنُنْ تَسْتَکْثِرْ، وَلِرَبِّکَ فَاصْبِرْ۔}(بخاری: کتاب الوحی) اسی درمیان کہ میں (مقام بطن وادی میں ) چل رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان سے ایک آوازسنی، میں نے نگاہ اٹھائی ، دیکھا کی وہی فرشتہ، جو غار حراء میں میرے پاس آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے،یہ منظر دیکھ کر میں گھبراگیا، میں گھر واپس آیا، میں نے کہا:مجھے کمبل اوڑھاؤ، مجھے کمبل اوڑھاؤ، اس کے بعداللہ نے یہ وحی بھیجی: اے کمبل