بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
مساوات کی شاہکار مثال نکلتے وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ ایک اونٹ پر حضرت علی اور حضرت ابولبابہ شریک ہیں ، جب آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے پیدل چلنے کی باری آتی ہے، تو دونوں صحابہ باادب عرض کرتے ہیں ، یا رسول صلی اللہ علیہ و سلم للہ! آپ سوار ہوجائیں ، ہم پیدل چل لیں گے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں : مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَیٰ مِنِّي وَلاَ أَنَا بِأَغْنٰی عَنْ الأَجْرِ مِنْکُمَا۔ تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقت ور نہیں ہو اور میں تم دونوں کے مقابلے میں اجر سے بے نیاز بھی نہیں ہوں ۔ (سیرت احمد مجتبیٰ :۲/۲۰۰) غور فرمائیے ! مساوات اور دوسروں کی رعایت کا اس سے معیاری نمونہ اور کیا ہوسکتا ہے؟ دنیا کے قائدین کی تاریخ، تواضع، مساوات اور حسن اخلاق کی ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔صحابہ سے مشورہ راستے میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اطلاع ملتی ہے کہ ابوسفیان کا تجارتی قافلہ (جو آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا اصل ہدف تھا) راستہ بدل کر تیزی سے سفر کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا ہے، اور حدودِ مکہ میں داخل ہوگیا ہے، مگر اس کی مدد کے لئے آنے والا مکہ کا لشکر اپنے قافلے سے مطمئن ہوکر ابوجہل کے اصرار پر اب مسلمانوں پر حملے کے لئے تیزی سے آگے آرہا ہے، اب وحی الٰہی کی رہنمائی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہل کی فوج سے مقابلہ طے فرمایا، دشمنوں کی تعداد معلوم کرنے کے لئے مخبر روانہ کئے، جن کی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ ان کی تعداد ایک ہزار ہے۔ صحابہ کے جذبات کا جائزہ لینے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے مشورہ طلب کیا، سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق وعمر رضی اللہ عنہما نے کھڑے ہوکر عرض کیا کہ ہم سب کچھ قربان