بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: انسان جہاد کی راہ میں طبعی موت بھی مرجائے تو شہید ہوتا ہے۔ ابھی قافلہ راستے ہی میں ہے کہ عبد اللہ کو بخار نے آگھیرا ہے، اور تبوک پہنچ کر عبد اللہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے ہیں ، رات کے اندھیرے میں قبر تیار ہوتی ہے، آقا صلی اللہ علیہ و سلم خود قبر میں اترے ہیں ، اپنے ہاتھوں سے عبد اللہ کو دفن کیا ہے، اور پھر اپنے ہاتھ اپنے رب کے دربار میں اٹھادئے ہیں کہ: اَللّٰہُمَّ اِنِّی اَمْسَیْتُ رَاضِیاً عَنْہُ فَارْضَ عَنْہُ۔ اے اللہ! میں آج شام تک اس سے خوش تھا، آپ بھی اس سے راضی ہوجائیے۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ دعا سنی تو بے اختیار تمنا ہوئی :کاش اس قبر میں لٹایا جانے والا میں ہوتا۔ (اسد الغابۃ:لابن الاثیر:۵/۱۶۷)منافقوں کی سازش اور ناکامی تبوک سے واپسی کے سفر میں ایک مقام پر ایک گھاٹی کے پاس ۱۲؍منافقوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو قتل کرنے کی ناپاک کوشش کی، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ حضرت عمار وحذیفہ رضی اللہ عنہما تھے، باقی صحابہ وادی کے نشیب میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے اشارہ پر حضرت حذیفہ نے ان کا تعاقب کیا، بالآخر وہ بھاگ کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت حذیفہ کو ان کے نام بتائے، اسی لئے حضرت حذیفہ کو ’’صَاحِبُ سِرِّ الرَّسُوْلِ‘‘ (رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا رازدار) کہا جاتا ہے۔(دلائل النبوۃ: للبیہقی:۵/۲۶۰، الدرالمنثور:للسیوطی:۴/۲۴۴، زاد المعاد:۳/۴۹) لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی ذات کے لئے ان سے کوئی انتقام نہیں لیا۔