آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
کردیں گے کہ اے اللہ! کوئی دلیل ہی سمجھ میں نہ آئی تھی، اور آپ سے پوچھا جائے گا کہ باوجود دلیل معلوم ہونے کے بھی کشمیر کے مسلمانوں کی کیوں امداد نہیں کی اور وہاں پر کیوں نہیں گئے؟ ہم تو وہاں پر بھی بری، اورآپ سے وہاں بھی بازپرس۔ میں ایک کام کی بات عرض کرتا ہوں کہ ان چیزوں میں نرے دلائل کافی نہیں تھوڑے سے ذوق کی بھی ضرورت ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ان جدید تدابیر اور طریق کار میں غیر منصوص ہونے کے علاوہ میرا ذوق بھی ان چیزوں کے خلاف ہے،اور مدار قبول اسکاتِ خصم نہیں اسقاط ہے۔ سوال: ہم ہر طرح پر کمزور ہیں کچھ نہیں کرسکتے۔ جواب: یا تو اس قدر قوت تھی جوش تھا کہ منصوص کے مقابلہ میں غیر منصوص پر عمل کرنے کو تیار تھے یا یہ عقیدہ کرلیا ہے کہ ہم کمزور ہیں ، کام کیجئے، مگر شرط یہ ہے کہ حدود شرعیہ کو محفوظ رکھتے ہوئے کام کیجئے۔ انبیاء علیہم السلام کی تدابیر میں اثر نہ ہو غضب کی بات ہے اپنی اختراع کی ہوئی تدابیر کو مؤثر سمجھیں ، میں پوچھتا ہوں کہ تدابیر کے استعمال میں خدا کے راضی کرنے میں کامیابی کا اثر ہوگا یا ناراض کرنے میں ؟ ظاہر ہے کہ راضی کرنے میں اثر ہوگا تو اس کی ایک ہی تدبیر ہے کہ تدابیر منصوصہ پر عمل کیا جائے۔ سوال: ان غیر منصوصہ پر جو عمل کیا جائے گا غیر مشروع اور برا سمجھ کر تھوڑا ہی کریں گے تواس میں بھی خدا تعالیٰ کی ناراضی نہ ہوگی؟ جواب: یہ تو اور بھی برا ہے کہ معصیت کو معصیت بھی نہ سمجھا جائے، بلکہ معصیت کو نیکی سمجھ کر کیا جاوے یہ درجہ تو اس سے بھی برا ہے اور بہت برا ہے پھر بدعت کوئی چیزہی نہیں رہتی، اس لیے کہ بدعتیں جس قدر ہیں سب کو دین ہی سمجھ