آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
مکالمہ نمبر۶ ایک غیر مقلد انصاف پسند سے مکالمہ ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا :کہ ایک غیر مقلد مولوی صاحب لکھنؤ سے یہا ں آئے تھے ،نہایت صفائی کی باتیں کیں ، بڑاہی جی خوش ہوا، خوش فہم اور سمجھدار تھے، ملتے ہی کہنے لگے کہ شاید بعد میں آپ کو معلوم ہوکر کہ یہ فلاں جماعت کا شخص ہے تنگی ہوتی اس لئے میں پہلے ہی عرض کئے دیتاہوں کہ میں عامل بالحدیث ہوں ، میں نے کہا میں آپ کے صدق اور خلوص کی قدر کرتاہوں ، اور میں بھی صاف بتلائے دیتاہوں کہ ہمارے یہاں اتنی تنگی نہیں کہ محض فرعی اختلاف سے انقباض ہو،ہاں جن لوگوں کا شیوہ بزرگوں کی شان میں گستاخی کرنا اور بدتمیزی اور بدتہدیبی سے کلام کرنا ہے ایسے لوگوں سے ضرور لڑائی ہے ، یہ مولوی صاحب حسین عرب صاحب کے پوتے ہیں جو بھوپال میں تھے ، کئی روز رہے اور بڑے لطف سے رہے ، ویسے بھی آنکھیں کھل گئیں کیونکہ ان لوگوں کو عامل بالحدیث ہونے کا بڑا دعویٰ ہے ، دوسروں کو بدعتی اور مشرک ہی سمجھتے ہیں ،کہتے تھے کہ یہاں پر تو کوئی بات بھی حدیث کے خلاف نہ دیکھی۔ دومسئلے بھی پوچھے ایک تویہ کہ اہل قبورسے فیض ہوتا ہے یا نہیں ؟ میں نے کہاکہ ہوتا ہے اور حدیث سے ثابت ہے اس پر ان کو حیرت ہوگئی کہ حدیث سے اہل قبور سے فیض ہونا کہاں ثابت ہوگا ،اس لئے کہ ساری عمر حدیث میں گذرگئی کسی حدیث میں نہیں دیکھا،میں نے کہا کہ سنئے ترمذی میں حدیث ہے کہ کسی صحابی نے لاعلمی میں ایک قبر پر خیمہ لگالیا ،وہاں ایک آدمی سورہ پڑھ رہا تھا ،حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ نے فرمایایہ سورہ مردہ کو عذاب قبر سے نجات دیتی ہے، دیکھئے قرآن کا سننا فیض ہے یانہیں ؟ اور مردے سے قرآن سنا تو اہل قبور سے فیض ہوا یا نہیں ؟ بے حد مسرور ہوئے،