آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
شبہات عمرو برتقریر زید ۱- مسلم ہے مگر مجھ کو شبہ یہ ہے کہ وجہ یا رأس نہ ہونے کے وقت وہ تصویر ہی نہیں رہتی بلکہ پھول یا شجر کے حکم میں ہے، اسی لیے التصویر یحرم کے بعد جو تعمیم کی ہے اس میں صغر واستتار واہانت وغیرہ کو ذکر کیا ہے، یا نہیں کیا ہے، اَوْمفقـودۃ الوجہ او الرأس او عضو لا تعیش بدونہ۔ ۲- اگر اس کلمہ کو عام لیا جائے تو اس کے قبل در مختار میں اولغیر ذی روح بھی مذکور ہے اس کو بھی عام ہونا چاہئے، حالانکہ یقینا اس کا اصطناع جائز ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ تعمیم ذی روح میں ہے اور (۱) میں لکھا جاچکا ہے کہ فقدان وجہ یارأس کے وقت وہ ذی روح میں داخل نہیں اور اس میں مضاہاۃ مخصوصہ کہ تصویر ہی میں ہے نہیں ہے (۳) پھر منع کی کیا وجہ ہے؟ (۴) عالم گیری سے مطلقاً یہ ثابت نہیں ہوتا اس نے صرف قطع رأس کی تفسیر کی ہے، چنانچہ اس کی عبارت میں تصریح ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ محو وجہ بھی بدون محورأس معتبر نہیں اور در مختار میں مقطوعۃ الرأس کے بعد اوا لوجہ حرف تردید سے کہنا اس کے معتبر ہونے میں صریح ہے اور (۲) میں عدم مضاہاۃ مذکور ہوچکا ہے۔اعتراضات زید بر شبہات عمرو جو کچھ احقر کو شبہ ہوا اس کا منشا صرف اس قدر ہے کہ جو تصویر مع وجہ کے ہو اس کے وجہ کو مٹادینے سے وہ تصویر ذی روح ہوجانے سے خارج ہوجاتی ہے، اور جو تصویر پشت کی جانب سے کھینچی گئی ہے اس میں گو وجہ نہیں آیا لیکن پورے آدمی کی تصویر ہونے کی وجہ سے داخل حرمت ہونا چاہئے، اور اس کو ممحوۃ الوجہ پر قیاس نہیں کرسکتے کیونکہ جب صرف سامنے کے رخ سے تصویر کھینچی جاوے تو البتہ وجہ کے