آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
دوسری بات یہ پوچھتا ہوں کہ ہجرت کے بعد جو مستضعفین مکہ میں رہ گئے تھے ان مسلمانوں میں بھی کچھ قوت اوراستطاعت تھی یا نہیں ؟ اگر یہ کہا جائے کہ ان میں قوت اس قدر نہ تھی کہ کسی قسم کا بھی مقابلہ کرسکتے، جواب یہ ہے کہ یہ بالکل غلط ہے ان میں اس قدر قوت تھی کہ ہندوستان کی قوت ان کی قوت کے سامنے گرد ہے۔ سوال: مقابل کفار بھی ایسے ہی قوی تھے اس لیے وہ ان سے مقابلہ نہ کرسکے؟ جواب: یہ تو میرے کلام کا حاصل ہے یہی تو بات ہے اورا ب کیا بات رہی، اگر اس کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر کوئی اختلاف ہی نہیں رہتا، مطلب یہی تو ہوا کہ صبر ہی کرنا پڑے گا عدم قدرت کی حالت میں ،جیسا کہ اہل مکہ نے کیا اور جب مدینہ والوں کو قوت ہوگئی اس وقت تلواریں ہاتھ میں لیں اورمکہ پر چڑھائی کی۔ سوال: پہلے آئین کی لڑائی نہ تھی اب تو آئین کی لڑائی ہے۔ جواب: اس کا جواب پہلے ہوچکا ہے، اب پھر سمجھ لیجئے کہ یہ آئین کہاں سے آئے، یہ بھی تو گھڑے ہوئے ہیں ، اور صحابہ نے تو سلطنت کی ہے اتنی بات ان کی سمجھ میں نہ آئی کہ اس طرح جتھے بھیج کرمکہ والوں کی مدد کرتے، خیر کچھ بھی ہو منقولات سے ثابت کیجئے، عجیب بات ہے کہ آپ مجھ سے تو غیر منقولات منوانا چاہتے ہیں اور آپ منقولات کو بھی تسلیم نہیں کرتے، میں ہرگز ماننے کو تیار نہیں جب تک آپ منقولات سے ثابت نہ کریں ، جسے ہمارے بزرگوں نے نظام دین کی حفاظت کے لیے قائم کیا، یعنی تقلید اس کو ایسی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے، اور خرابی تو آج کل زیادہ اسی وجہ سے ہورہی ہے کہ ہر شخص مجتہد بناہو ا ہے، واقعی سلف صالحین بڑے ہی حکیم تھے، دنیا میں یہ طبقہ حکماء کا ہے کہ اجتہاد ہی کو بند کردیا، وہ ہم سے دین کو سمجھنے والے تھے، مزاحاً فرمایا کہ ہم لوگ تو عند اللہ بھی معذور ہوں گے پوچھا جائے گاتو عرض