آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
کر کرتے ہیں ، اہل بدعت یہی جواب دے سکتے ہیں کہ ہم برا سمجھ کر تھوڑا ہی کرتے ہیں اس سے تو سنت اور بدعت، جائز اور ناجائز میں کوئی فرق ہی نہیں رہتا، ہر برے کام میں نیت اچھی کرلیا کریں کہ ہم جو کررہے ہیں یہ برا کام نہیں بلکہ نیک کام ہے، آپ ہی بتلائیے کہ یہ کلیہ کہاں تک صحیح ہے جوآپ نے بیان کیا؟ سوال: منصوص تدابیر کے مقابل ان جدید کو منہی عنہ نہیں فرمایا گیا، نہ نہی وارد ہے نہ حکم ہے تو اس صورت میں مسکوت عنہ کہا جائے گا ممنوع ہونے کی کیا وجہ ہے؟ جواب: جن چیزوں کی حاجت خیرا لقرون میں نہ ہوئی ہو اور خیر القرون کے بعد حاجت پیش آئی ہو اور نصوص ان کے خلاف نہ ہوں وہ تو مسکوت عنہا ہوسکتی ہیں لیکن ان چیزوں کی تو حاجت ہمیشہ ہی پیش آتی رہی پھر بھی نصوص میں صرف جہاد یا صبر ہی کا حکم ہے تو اس اعتبار سے یہ مسکوت عنہ نہ ہوگا، منہی عنہ ہوگا کہ باوجود ضرورت کے متقدمین نے اس کو ترک کیا، اختیار نہیں کیا، تو اجماع ہوا اس کے ترک پر اس لیے ممنوع ہوگا۔ علاوہ ان سب باتوں کے ایک یہ بات باریک ہے جس کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہر کام کرنے کے لیے حدود کی ضرورت ہے ان تحریکات میں بھی ضرورت ہے، سو اس کا تحفظ کون کرے گا یا کون کرائے گا، ایک لڑکا زمانۂ خلافت میں ہجرت کرگیا اس کی ماں روتی روتی اندھی ہوگئی اس کو کون دیکھے گا کہ کس کو جانا چاہئے اور کس کو نہیں اگر تدابیر جدیدہ جائز بھی ہوں تب بھی اس کی ضروت ہے کہ کوئی امیر ہو،تا کہ حدود کی رعایت خود بھی کرے اور دوسروں سے بھی کرائے، بلا امیر کے کچھ نہیں ہوسکتا۔۱؎ ------------------------------ ۱؎ ملفوظات حکیم الامت ۱؍۶۲ قسط :۱