آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
فصل(۸) ضرورت کے وقت اہل افتاء کو بھی استفسار وتحقیق کی ضرورت حکیم الامت حضرت تھانویؒ تحریرفرماتے ہیں : (تراویح میں پوراقرآن پاک ختم کرنے کے سلسلہ میں ) مجھ کو دوتردد تھے، ایک یہ کہ آیاختم کا سنت مؤکدہ ہونا اصل مذہب ہے یاصرف مشائخ کاقول، مراجعت کتب فقہیہ سے یہ ثابت ہواکہ یہ علماء احناف میں مختلف فیہ ہے ،اکثر کاقول تو تاکدّ ہی ہے، بعض کا قول عدم تأکد بھی ہے ،دوسرا تردد یہ تھااور ہے کہ قائلین بالتأکد کی دلیل کیا ہے ؟ سواسی کو میں متعدد علماء سے استفسار کیاکرتاہوں ،جس سے مقصود تأکد کی نفی نہیں بلکہ اس پر طلب دلیل ہے ،اگر اس پر بھی اعتراض ہے تو اس اعتراض کا حاصل تویہ ہوا کہ جو امر معلوم نہ ہو اس کو طلب نہ کرنا چاہئے ،تواہل انصاف خود ہی غورکرلیں کہ آیا دین میں طلب علم مقصود ہے یا بقاء علی الجہل۔۱؎ اپنی تحقیق وتحریر پر اصرار نہیں شب برأت کے بعض اعمال کے متعلق ایک علمی وفقہی مکاتبت میں ایک بڑے محقق عالم کے خط کے جواب میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ تحریر فرماتے ہیں : ’’یہ ہے (وہ تحقیق) جو اس باب میں میرے علم میں ہے ، لیکن مجھ کو اس پراصرار نہیں ، اگر (معتبر اور جید) علمائے وقت دوچار بھی اس کو خطا فرمادیں ، میں تقلیداً بھی قبول کرنے کو اور بعد قبول اعلان رجوع کو آمادہ ہوں ۔۲؎ ------------------------------ ۱؎ امدادالفتاویٰ ص۵۰۱ج۱ سوال ۴۲۸۷ ۲؎ امدادالفتاویٰ ص۲۱ج۴سوال ۱