آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
مشکل معلوم ہوتا ہے۔ بعض دفعہ ایک صورت ذہن سے نکل جاتی ہے اور غلطی ہوجاتی ہے جواب میں اور اصل وجہ یہ ہے کہ ایک ایک صورت کا علیحدہ علیحدہ سوال ہو تو مختصر جواب ممکن ہے اور جو کئی صورتیں ایک ساتھ جمع کردیں اور ان میں ہر ایک کا جدا جدا حکم ہوا تو جواب میں تفصیل کی تطویل ہوتی ہے اور مجیب کو پھر تمام سوالات کا اعادہ کرنا پڑتا ہے۔۱؎قابل تنقیح سوالات میں جواب سے پہلے تنقیح کی ضرورت سوال (۱۱۹)کیافرماتے ہیں علماء دین وشرع متین امور مستفسرہ ذیل میں قصبہ مئومیں کپڑے کے خریدار اس قسم کے زیادہ ہیں جو مال کی قیمت میں نصف سوت اور نصف زرنقد دیاکرتے ہیں ،اگر اسامی یعنی بائع چاہے کہ مال کی قیمت بلا سوت کے کل زرنقد ملے تو خریدار مال خریدنے سے بازرہے گا، لیکن کل زرنقددے کرمال خریدنا قبول نہیں کرے گا اور اسامی یعنی بائع کا حرج ہونے لگے گا اس صورت میں اسامی اپنامال نصف سوت اور نصف زرنقد پر فروخت کرے تو یہ بیع جائز ہے یاناجائز،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سوروپئے کامال فروخت ہوگا تو پچاس روپئے کا سوت ہوگا تو پچاس روپئے کا سوت اور پچاس روپئے زرنقد سے مال کی قیمت اداکی جائے گی لیکن اس امر کا ذکر بائع اور مشتری کے درمیان خرید وفروخت کے وقت نہیں کیاجاتا ہے ،مال کی قیمت طے کرلیتے ہیں کہ چالیس روپئے کا ہوایاپچاس روپئے کا ہوا اور سوت کا نرخ بعض وقت قبل سے معلوم رہتا ہے اور بعض وقت مال فروخت ہوجانے کے بعد طے ہوتا ہے ،اس معاملہ میں بائع اور مشتری دونوں رضا مندہوجاتے ہیں تو اس میں کیا قباحت ہے اس کا جوا ب بہت جلد عطاہو(تم السؤال) ------------------------------ ۱ ؎ ۱حسن العزیز ص۱۹۵