آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
§فادات ۔ |
|
یہ رائے صحیح نہیں کہ احکام شرعیہ میں علماء کوکمیٹی قائم کرکے اختلاف ختم کرلینا چاہئے بعض لوگ آج کل یہ بھی کہتے ہیں کہ مجتہدین میں آپس میں اختلاف کیوں رہا، سب نے مل کر کمیٹی کرکے اتفاق رائے کیوں نہ کرلیا؟ یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ دنیا کی کون سی چیز اختلاف سے خالی ہے، بہت سے مسائل طب کے ایسے ہیں جن میں اطباء مجتہدین کا اختلاف رہا ،توانہوں نے کمیٹی کرکے اختلاف کو کیوں نہ رفع کرلیا؟ آج کل کمیٹی کا بڑا زور ہے ،ڈاکٹر لوگ تو کثرت رائے کے معتقد ہیں توذراان سے پوچھئے کہ انہوں نے اپنے باہمی اختلاف کو جوان کے درمیان طبی مسائل میں اس وقت بھی موجود ہیں ، کمیٹی کے کرکے کیوں نہ دورکیا؟ اور اس سے بھی واضح نظیر لیجئے کہ سلطنت موجودہ کاقانون ایک ہے ،لیکن پھر بھی دوججوں میں اختلاف ہوتا ہے انہیں واقعات کی بناء پر جومشل میں موجود ہے ایک پھانسی کا حکم دیتا ہے دوسرا اس کو رہا کرتا ہے ، دونوں موجود ہیں دونوں مل کر کمیٹی کرکے ایک بات پر کیوں نہیں اتفاق رائے کرلیتے ہیں ؟ یہ سوال ان ہی کے دلوں میں پیداہوتا ہے ،جن کے دلوں میں دین کی عظمت ووقعت ذرابھی نہیں ہے اور دین کو صرف رسم ورواج کے طورپر مانتے ہیں اس واسطے رفع الزام کے طورپر کہتے ہیں کہ مجتہدین نے اتفاق رائے کیوں نہ کرلیا، ان کے نزدیک دین کوئی مہتم بالشان چیز نہیں لہٰذا ان کے نزدیک رفع اختلاف کے لئے اس کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں میں اختلاف ہو وہ جمع ہوکر بیٹھ جاویں اور دوچار آدمی اِدھر اور دوچار اُدھر ہوجائیں اور جس طرف کثرت رائے ہو اسی کو ٹھیک سمجھ لیا جاوے اور اسی کو دین قرار دیاجائے چاہے وہ صحیح ہو یاغلط ۔۱؎ ------------------------------ ۱؎ وعظ الصالحون ملحقہ اصلاح اعمال ص۱۴۵