آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
کہ’’ ہمارا خیال یہ ہے‘‘ ایک عام طریقہ ہے ۔ اس کا مذموم ہونا(ماقبل) میں گذرچکا ہے اتنا اور مزید کرتاہوں کہ کیا یہ حضرات کبھی کسی حکیم وڈاکٹر کی تجویز سننے کے بعد اس کے خلاف رائے قائم کرکے یہ کہنے کی ہمت کرسکتے ہیں کہ’’ ہمارا خیال یہ ہے‘‘ یاکسی حاکم وافسر کے سامنے اس کے حکم کے خلاف رائے ظاہر کرکے یہ کہنے کی جرأت کرسکتے ہیں کہ’’ ہمارا خیال یہ ہے‘‘ ؟ تو افسوس خداورسول کے احکام کے سامنے یہ کہنے کی کیسے جسارت ہوتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ وہ اللہ ورسول کے احکام ہی نہیں ہوتے یاتووہ علماء کا اجتہاد ہوتا ہے یااگر نصوص ہوتے ہیں تو ان کی تفسیر علماء کی ہوتی ہے، ہم علماء کے مقابلہ میں کہتے ہیں ۔ اس کا جواب ظاہر ہے کہ نصوص کو بھی علماء جیسا سمجھتے ہیں تم قیامت تک نہیں سمجھ سکتے اور اگر ان کا اجتہاد ہے تو وہ اجتہاد بھی ماخوذ نصو ص ہی سے ہے اس کے اخذ کا سلیقہ بھی علماء ہی کو ہے تم کو نہیں ، لہٰذا دونوں حالتوں میں علماء کے مقابلہ میں یہ کہنا درحقیقت خدا ورسول ہی کے مقابلہ میں کہنا ہے ۔۱؎احکام شرعیہ اور دینی مسائل میں اپنی رائے کو دخل دینا ناجائز ہے آج کل مدعیانِ عقل میں عام مرض ہوگیا ہے کہ علم دین حاصل کئے بغیر مسائل دینیہ میں دخل دیتے ہیں اور بجائے دلیل کے اس کہنے کو کافی سمجھتے ہیں کہ’’ ہمارا یہ خیال ہے‘‘ اور علماء کے ساتھ اختلاف کرتے ہیں ۔ اس اختلاف کا حکم یہ ہے کہ یہ سخت معصیت اور مذموم ہے اور یہ احادیث اسی باب میں وارد ہیں ۔ ------------------------------ ۱؎ بوادرالنوادر ص۶۸۱