آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
نہیں ، وہ بھی جبکہ اس قتال کی سب شرطیں پائی جاویں اور موانع مرتفع ہوں جس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے، اور خود قتل کا مقصود نہ ہونا اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں ہر جگہ یُقتَلُون (بصیغۂ مجہول) یَقْتلون(بصیغۂ معروف) ہے پس معلوم ہوا کہ یُقتلون خود مقصود نہیں بلکہ یَقتلون سے کبھی لازم آجاتا ہے۔ سوال: پوری قدرت تو نہیں مگر جو کچھ بھی ہے اس کا استعمال کس طرح کریں کچھ تو ہونا چاہئے؟ جواب: یہ بھی آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ کیا کرنا چاہئے میری تو سمجھ میں اس سے زیادہ نہیں آتا کہ ان کو تبلیغ کرو، اور دین سکھلاؤ اس کے بعد لڑاؤ ،میں پوچھتا ہوں ہجرت کے بعد جو مسلمان مکہ میں تھے ان کی جانیں جاتی تھیں ، اس وقت اہل مدینہ نے ایک بھی جتھانہ بھیجا، کوئی بھی جتھا نہ گیا، جب تک آیت قتال نازل نہ ہوئی صبر کے سوا کوئی حرکت اس آئینی جنگ کی جاری نہ ہوئی، پس جنگ اسلامی لڑو ،آئین پائین کہاں کی خرافات نکالی ہے۔ سوال: ایسے آئین اس وقت ایجاد نہ ہوئے تھے اگر ہوتے تو جنگ بھی ایسی ہی ہوجاتی؟ جواب: بہر حال اس سے اتنا تو معلوم ہوگیا کہ یہ آئین منصوص تو ہے نہیں عقل ہی کا اختراع ہے تو صحابہ بھی عاقل تھے ان کے ذہن میں اور بڑی بڑی تدبیریں آئیں یہ تدابیر کیوں نہ آئیں ؟ اور یہ کیا، آج کل کی اختراع شدہ تدابیر میں سے ایک بھی نہ آئی، آئی تو بس قتال کی آئی وہ بھی جبکہ آیت قتال نازل ہوچکی، خلاصہ یہ کہ اگر عمومات سے استدلال ہے تو سوال یہ ہے کہ آج تک امت میں ان عمومات سے استدلال کرکے کسی نے عمل بھی کیا ہے، اور کیا تیرہ سو برس میں ایسی مظلومیت کی صورتیں پیش نہ آئیں تھیں ؟ پھر یہ طریقے کیوں نہیں اختیار کئے گئے۔