آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
پھر کوئی بدل ہی نہیں ،حضرت ہر منفعت کا اعتبار نہیں اس کی تو بالکل ایسی مثال ہے کہ کوئی شخص یوں کہے کہ فلاں شخص کی جان بچ سکتی ہے اگر تم کنوئیں میں گرجاؤ ،تو اس کی جان بچانے کی غرض سے کیا کنوئیں میں گر جانا جائز ہوگا؟ سوال: تو کیا پھر قتال ہی کیا جائے؟ جواب: ضرور، مگر قدرت عادی شرط ہے اور محض کامیابی کی خیالی توقع قدرت نہیں ہے۔ سوال: ضرر تو قتال میں بھی ہے، اشد ضرر، کہ جان جاتی ہے؟ جواب: چونکہ قتال مقصود و منصوص ہے اس لیے اس کا ضرر معتبر نہیں اور یہ تدابیر اورطریق کار غیر منصوص ہیں اس لیے اس کے ضرر کو دیکھا جاوے گا، اور وجہ فرق دونوں میں یہ ہے کہ اصل مقصد یہ ہے کہ فتنہ نہ ہو، قتال فتنہ نہیں ہے، کیونکہ قتال میں طبیعت یکسو ہوجاتی ہے اور سکون ہوتا ہے اور ان امور میں تشتت اور پراگندگی اور اضاعت اوقات ہے، اصل یہ ہے کہ لوگ فقہ کو نہیں دیکھتے پروگرام بناتے وقت، اور فقہ کو محض رائے سے دیکھنا کافی نہیں اور نہ مفید ہے، بلکہ نصوص اور ذوق کے ساتھ دیکھنا مفید ہے اس میں سب احکام اظہر من الشمس ہیں ، فن فقہ نہایت ہی دقیق ہے اسی واسطے میں ہمیشہ احتیاط کے پہلو کو ترجیح دیتا ہوں ۔ سوال: ’’من قتل دون عرضہ ومالہ فہو شہید‘‘سے جان دینا جائز نکلتا ہے تو بھوک ہڑتال وغیرہ میں گنجائش معلوم ہوتی ہے؟ جواب: قتل سے مراد خودکشی نہیں ہے بلکہ مراد قتال ہے یعنی لڑو جنگ کرو، اس نیت سے کہ جان اور ایمان اور مال بچ جاوے، پھر اس قتال میں اگر جان چلی جائے تو چلی جائے، وہ شہادت ہے اور خود قتل مقصود نہیں ہے، بلکہ قتال سے اگر لازم آجائے تو اس کا جواز نکلتا ہے، غرض اس سے مقصود قتال ہے قتل