آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
ہے وہ خود سمجھ لیں گے کسی سے کیا مطلب،میرے لئے اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے یہی مناسب ہے کہ ان قصوں میں نہ پڑوں اپنی حالت کومیں ہی خوب جانتاہوں ، خداجانے دوسرے مجھے کیوں مجبور کرنا چاہتے ہیں ، اب میں جواب کا منتظرہوں میں نے اپنا معمول بتادیا، میں کسی فرمائش کی تعمیل پر مجبور نہیں ہوسکتانہ کسی سے ضدرکھتاہوں ، سواگر فرمائش کے متعلق کوئی مضمون آگیا تو ضرور بیان کروں گا خواہ نفی کا ہو یا اثبات کا اور اگر مضمون نہ آیا توقصداً لانے کی کوشش بھی نہیں کروں گا۔ مقررصاحب: آپ بیان شروع کریں ۔ حضرت والا: بیان ہویانہ ہودیکھنے کی بات ہے کہ وعظ سے غرض کیا ہوتی ہے وعظ سے غرض مسلمانوں کی اصلاح ہوتی ہے اور اس صورت میں کہ بعض کی رائے کچھ ہے اور بعض کی کچھ تو ایسی حالت میں اصلاح کیا ہوسکتی ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں فرقہ بندی ہوجاوے اور ہر جگہ توتومیں میں ہو اگر پہلے کچھ اصلاح تھی بھی تو وہ بھی ندارد ہوجائے، فرقہ بندی کس قدر بری چیز ہے اس میں نہ تودین کا خیال رہتا ہے نہ دنیا کا ،میں اس کو تمام خرابیوں کی جڑ سمجھتاہوں ، بیان سے اس قدر نفع کی امید نہیں جتنا اس فرقہ بندی سے نقصان پہنچ جانے کا اندیشہ ہے، اگر مجھے اطمینان دلایاجائے کہ دوفرقہ نہ ہوں گے تو میں وعظ کہوں گا ورنہ کوئی ضرورت نہیں ،وعظ گوئی میراپیشہ نہیں ۔ مقررصاحب: ہم آپ کے خلاف نہیں وعظ شروع کیجئے۔ حضرت والا: میرے خلاف سے بحث نہیں آپ لوگوں میں افتراق نہ ہو،میں تو سنتے سنتے بے حیاہوگیاہوں اورگالیاں تک کھانے کی عادت ہوگئی ہے، اختلاف کا اثر میرے اوپر کچھ نہیں ہوتا، میں نے تو سوچ لیا ہے کہ اس میں بھی حق تعالیٰ کی رحمت ہے، کیونکہ جب سے نوکری چھوڑی دنیا میں بھی گذر دوسروں ہی کی کمائی سے ہے آپ لوگ کماتے ہیں اس میں سے مجھے بھی کچھ دیتے ہیں میرے ہاتھ میں تجارت زراعت وغیرہ کوئی ذریعہ معاش کا نہیں ہے، حق تعالیٰ نے دیکھا کہ یہ احد ی ہے آخرت کے لئے بھی