آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
اِنِّیْ اُحِبُّک واُحِبُّ لَکَ مَااُحِبُّ لِنَفْسِیْ یعنی اے ابوذر! میں تم سے محبت کرتاہوں اور تمہارے واسطے وہی بات پسند کرتاہوں جو اپنے واسطے پسندکرتاہوں یہ خصوصیت کا بیان ہے ،پھر دیکھئے کہ ان کے واسطے حضور صلی اللہ علیہ وسلم مشورہ کیادیتے ہیں فرماتے ہیں لاتَلِیَنَّ مال یتیم ولا تقض بین اثنین یعنی تم دوکام مت کرنا ایک تو کسی یتیم کے مال کے متولی مت بننا اور ایک یہ کہ دوشخصوں میں کبھی فیصلہ نہ کرنا، آپ جانتے ہیں کہ یہ دونوں کام فی نفسہٖ کیسے ہیں یتیم کی خدمت کرنا کس قدر ثواب کاکام ہے،اور دوشخصوں میں فیصلہ کرنا کس قدر اچھا کام ہے لیکن ایک ایسے عارف باللہ صحابی کو جن کی خصوصیت خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی بیان فرمائی کہ اس سے زیادہ کیا خصوصیت ہوسکتی ہے ان دومذکورہ باتوں سے منع کیاجاتاہے اور دوسرے بعضے صحابہ کے واسطے ایک یتیم کی تولیت اور قضا بین اثنین کیاسلطنت کی اجازت دی جاتی ہے ، حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ اور حضرت عمر ؓ نے اقلیم میں سلطنت کی ، اس سے صاف یہ مسئلہ نکل آتا ہے کہ اختلافِ حالات سے اختلاف حکم ہوسکتا ہے ،اب میں پوچھتاہوں کہ اگرا بوذرؓ تولیتِ یتیم کی اور قضابین اثنین کی فضیلت دیکھ کر ان کو اختیار کرتے تو اچھا کرتے یابرا اور ابوبکر ؓ اس ابوذرؓ کی حدیث کو سن کر ایک طرف گوشہ میں بیٹھ جاتے اور سلطنت کو ہاتھ نہ لگاتے تواچھا کرتے یابرا؟ جواب دونوں صورتوں میں سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوسکتا کہ براکرتے، پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ اس وقت ایک کام کو اچھا سمجھ کر سب کو اسی کی رائے دی جاتی ہے، کسی کو کیاخبر ہے کہ میری حالت ابوذرؓ کی سی ہے یا ابوبکر ؓ کی سی،اگرمیری حالت ابوذرؓ کی سی ہے اور کام اختیار کروں میں ابوبکرؓ کا ساتو میں اچھا کروں گا یابرا اور مجھ سے حق تعالیٰ کے یہاں مؤاخذہ ہوگا یا نہیں ، ایسے ہی اس کا عکس ہے بس مجھ کو اپنی حالت پر چھوڑدیجئے ،اپنی حالت پر جیسے مجھے معلوم ہے آپ کو نہیں معلوم ہوسکتی ،میں صاف بات بتائے دیتاہوں نہ میں پبلک کا طرفدار ہوں نہ گورنمنٹ کا نہ میں کہیں سے تنخواہ پاتاہوں ، اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو معاملہ حق تعالیٰ کے ساتھ