آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
دوایک حضرات فرمادیں میں اس کی موافقت فوراً کروں گا بلکہ خوش ہوں گا کہ میری محنت بچادی۔ مقررصاحب: ہر گز نہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وعظ کو بند کردیاجائے کبھی کبھی تو قسمت سے یہ موقع ملتا ہے ،حق تعالیٰ آپ کے فیض کو جاری رکھے۔ حضرت والا : معاملہ کی بات ہے میں پہلے ہی سے صاف کہہ دینے کوپسند کرتاہوں مجھے پالیسی نہیں آتی آخر میں بھی بچہ نہیں ہوں کچھ تجربہ رکھتاہوں ، میں نے دیکھا ہے کہ مشورہ پرعمل نہ کرنے سے گومنہ پر کوئی کچھ نہ کہے لیکن بعد میں شکایتیں ہوتی ہیں اور لعن طعن بھی ہوتا ہے کوئی کہتا ہے یہ گورنمنٹ سے تنخواہ پاتے ہیں انکو مسلمانوں سے ہمدردی نہیں ، میرابارہا کاتجربہ ہے اسی واسطے میں پہلے ہی صاف کہے دیتاہوں کہ میں کسی مشورہ پر عمل کرنے پر مجبورنہ ہوں گا۔ مقرر صاحب :جیسا مناسب ہوہماری سمجھ میں جوآیا عرض کردیا، اب آپ بیان فرماویں ۔ حضرت والا:میراکسی خاص حالت کے متعلق بیان کرنے کاخیال نہیں ، میرا معمول یہ ہے کہ میں ایسی حالت کے متعلق بیان کرتاہوں جو عام ہو اور سب میں مشترک ہو ، خطاب خاص کسی شخص یاجماعت کو نہیں کیا کرتانہ کوئی مضمون قصداً اختیار کرتاہوں نہ کسی مضمون کو قصداً ترک کرتاہوں مجھے کسی سے ضد نہیں ،اگر اس کے متعلق جس کی آپ نے فرمائش کی ہے کوئی مضمون ذہن میں آگیا نفیاًیااثباتاً اس کو چھوڑوں گا نہیں اور نہ آیاتو قصداً لاؤں گا بھی نہیں ،میں یہ نہیں کہتا کہ واقع میں اس کی ضرورت ہے یا نہیں ،میں اپنی حالت جانتاہوں اور اس کے لحاظ سے کہتاہوں کہ میرے لئے اس کے متعلق یہی معمول مناسب ہے جس پر میں کاربند ہوں ،ہر شخص کی حالت جداگانہ ہوتی ہے اور اسی کے لحاظ سے حکم ہوتا ہے ،دیکھئے ابوذر غفاری صحابیؓ ہیں اور ایسے صحابی جن سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اس قدر خصوصیت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں