آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
غرض پہلا سوال یہ ہوا کہ تمہارانام کیا ہے؟ باپ کا کیا نام ہے؟ اس کے بعد حاکم نے سوال کیا کہ آپ عالم ہیں ؟میں نے اپنے دل میں خیال کیا کہ واہ اچھا سوال ہو ااب اگر کہتاہوں کہ نہیں تو یہ ایشیائی مذاق کو کیا جانے، کہے گاکہ سمّن کی تعمیل غلط ہوئی اس پر عالم لکھا ہے اور اس کی نظر میں اپنی ایک قسم کی تحقیراور اہانت بھی ہوگی، کہے گا کہ پھرآنے کی تکلیف ہی کیوں گوارا فرمائی جب کہ آپ عالم نہیں ، اور یہ مسئلہ متعلق ہے اہل علم سے اور اگر کہتاہوں کہ عالم ہوں تو یہ اپنے مسلک اور مذاق کے خلاف خود ستائی ہے ،میں نے کہا کہ مسلمان ایسا ہی سمجھتے ہیں یہ لکھ لیاگیا، دوسرا اس سے بڑھ کر ہوا کہ سب مسلمان آپ کو مانتے ہیں ؟میں نے سوچا کہ اگر کہتاہوں کہ نہیں توایک غیر مسلم کے سامنے اپنی سبکی اور اہانت، اس کو بھی جی گوارہ نہ کرتا تھا،مزاحاً فرمایا گوسَبکی نہ تھی ،دوسرے مقدمہ پر برا اثر پڑے گا کیونکہ میرابیان کسی نہ کسی فریق کے توضرور مخالف ہوگا اس کو اس کہنے کی گنجائش ہوگی کہ وہ تو خود ہی کہہ گئے کہ سب مسلمان نہیں مانتے سو ہم بھی نہیں مانتے،اوراگر کہتاہوں کہ سب مسلمان مانتے ہیں توکانپور میں آئے دن ہندومسلمان میں فساد ہوتے رہتے ہیں میرے اس اقرار کی بناء پر مجھ کو حکم کیا جاسکتاہے کہ تم کو سب مانتے ہیں تم اس کا انتظام کرو۔ میں اس کاذمہ دار قراردیاجاؤں گا میں نے جواب میں کہا کہ ماننے کے دومعنی ہیں ، ایک تصدیق کرنا اور ایک تسلیم کرنا توتصدیق کے درجہ میں تو سب مسلمان مانتے ہیں یعنی کوئی مسلمان ہمارے بتلائے ہوئے مسئلہ کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا اس سے مقدمہ پر بھی اچھا اثر ہوا اورتسلیم کے درجہ میں ہماری حکومت توہے نہیں صرف اعتقاد ہے اور اعتقاد کسی کو ہے اور کسی کو نہیں جو ہم کو معلوم نہیں ،پھرنفس مسئلہ پر بیان ہوا جب میں بیان دیکر اجلاس سے باہر آیا تو ببیرسٹر اور وکلاء جمع ہوگئے اور کہنے لگے کہ عجیب وغریب جواب ہوئے اور دوسرے سوال کے جواب میں تو ہم بھی چکر میں تھے واقعی