آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
کا جواب ذہن میں نہ تھا مگر عین وقت پر اللہ تعالیٰ نے مددفرمائی ،سوال کے ساتھ ہی جواب ذہن میں القاء فرمادیا، میں نے کہا کہ آپ نے غور نہیں فرمایا، یہاں دوچیزیں ہیں ایک نفس طلاق کہ دیانات محضہ سے ہے اور دوسری چیز اس کا اثریعنی عورت کو طلاق کے بعد جوآزادی حاصل ہوچکی تھی اب اس کو آزادی نہ ملنے پر اس کا ضرر ہے، گورنمنٹ سے اس ضرر کے دفع میں مددلی گئی اور وہ معاملہ ہے توگورنمنٹ سے یہ مدد لینا دیانات میں نہیں بلکہ معاملہ یعنی دفع ضرر میں ہے اس پر انہوں نے کہا کہ اسی طرح نفس وقف بھی دیانات محضہ ہے مگر متولی کی بددیانتی اور بدانتظامی کی وجہ سے جوغرباء اور مساکین کا ضرر ہے گورنمنٹ سے اس ضرر کے دفع کیلئے مددلی جاتی ہے،میں نے کہا کہ آپ نے غور نہیں کیا، اس میں مساکین کا ضررنہیں ، اس لئے کہ انکا حق پہلے سے ثابت نہیں محض استحقاق نفع کا ہے تو بددیانتی سے اس نفع کا عدم ہوا کسی ضرر کا ثبوت نہیں ہوا اور وہاں اس عورت کا حق ثابت ہوچکا تو اس صور ت میں عورت کاضرر ہے اور مساکین کا ضررنہیں عدم النفع ہے اور ضرر اورعدم النفع جداجداچیزیں ہیں ، اور اس کی ایسی مثال ہے کہ میں آپ کو سوروپیہ کا نوٹ دینا چاہتاتھا ، کسی نے منع کردیا تو اس صورت میں آپ کا ضرر نہیں عدم النفع ہوا، اور اگر کوئی شخص آپ کی جیب سے سوروپیہ کا نوٹ نکال لے اس کو بیشک ضرر کہیں گے چہار طرف سے سب کی زبان سے حتی کہ وفد کے منہ سے بھی نکلا سبحان اللہ! سبحان اللہ! اور یہ کہا کہ عدم النفع اور ضرر کا فرق ساری عمر میں بھی نہ سناتھا، یہ بھی کہا کہ تمام جگہوں میں علماء سے مسائل میں گفتگو کرتے آرہے ہیں مگر کہیں یہ لطف نہیں آیا اور نہ یہ تحقیقات سنیں ہم کو آج تک خبرنہ تھی کہ علماء میں بھی اس دماغ کے لوگ موجود ہیں یہ بھی کہا کہ عجیب بات یہ ہے کہ نہ تو گفتگو کے وقت کسی کی وجاہت کا طبیعت پر اثر تھا اور نہ کہیں تقریر میں بے ربطی تھی اور ہر دعوے کے ساتھ دلیل، اور اس وفد میں بعض