آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
پاک کاہے شیطان کے سجدہ نہ کرنے پر حق تعالیٰ کو اس کے مقدمات کا حکیمانہ جواب کیا مشکل تھا جس کا حاصل یہ ہوتا کہ مخلوق من النارکا مخلوق من الطین سے افضل ہونا غیر مسلم ہے، مگر چونکہ مخاطب کوڑمغزااور بدفہم تھا، حاکمانہ شان سے کام لیا، اور پھرنفس جواب بھی اس وقت ضروری ہے جب تبلیغ نہ ہوئی ہویعنی یہ معلوم ہوجائے کہ اس کو معلوم نہیں ہے اس وقت واجب ہے کہ وہاں تبلیغ کردی جائے اور اگر معلوم ہو کہ تبلیغ ہو چکی توپھر مطلق جواب ہی واجب نہیں ۔۱؎ ایک مولوی صاحب صرف اصلاح الرسوم کے متعلق گفتگو کرنے کے لیے تشریف لائے بڑ ے جوش میں تھے کہنے لگے کہ مجھ کو اصلاح الرسوم کے بعض مقامات پر شبہات ہیں گفتگو کرنا چاہتا ہوں میں نے کہا بڑی خوشی ہے لیکن میری بے ادبی بدتہذیبی معاف کیجئے گا، آپ کو تین باتوں میں قسم کھانا ہوگی ایک تو یہ کہ واقعی میرے دل میں شبہ ہے محض تصنیف نہیں کیا گیا، دوسرے یہ کہ اس شبہ کا جواب میرے ذہن میں نہیں ، تیسرے یہ کہ صرف تحقیق مقصود ہے اپنے کسی بڑے کی نصرت مقصود نہیں ، ان تینوں باتوں پر قسم کھالیجئے پھر جو شبہ ہو فرمائیے، اس سے ان کے سب شبہات ختم ہوگئے، وہ سمجھے کہ یہ قسم بڑی ٹیڑھی کھیر ہے۔ اپنی ہی جماعت کے ایک بزرگ نے بذریعہ خط مشورہ دیا کہ آپ اصلاح الرسوم پر نظر ثانی فرمالیں میں نے جواب میں لکھا کہ میں نظر ثانی ، نظر ثالث، نظر رابع۔ سب کرچکا، ہر نظر کا وہی نتیجہ نکلا جو نظر اول کا تھا، اب آپ اصلاح فرمادیں ، میں اس کو شائع کردوں گا، اگر اس سے لوگوں کو ان رسوم میں ابتلاء ہوگیا تو آپ ذمہ دار ہوں گے پھر ان بزرگ نے کوئی جواب نہیں دیا۔۲؎ مولانا خلیل احمد صاحبؒسے کسی نے عرض کیا کہ آپ نے تو اس تقریب میں شرکت فرمائی اور فلاں شخص نے یعنی میں نے شرکت نہیں کی یہ کیا بات ہے؟ ------------------------------ ۱؎ ملفوظات حکیم الامت ص۱۵۸ج۵ ملفوظ نمبر۱۸۳ مطبوعہ ملتان ۲؎ الافاضات ۲؍۳۶۸