آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
مجھ کو چلنا چاہئے یااپنے نسخہ پر اب آپ آخری بات فرمادیجئے کہ میں بیان کروں یانہیں ؟ مقرر صاحب:ہم آپ پر حاکم کیا ہوتے ہم تومشورہ دینے کے قابل بھی نہیں ہمارا عرض کرنا توایک التجا ہے اور ہم اس پر بوجہ اس درد کے جواس وقت ہر مسلمان کے دل میں ہے مجبور ہیں ۔ حضرت والا: آپ نے جورائے ظاہر فرمائی وہ سراسر درد پر مبنی سہی لیکن ان دوباتوں میں کسی میں توداخل ہو گی ہی یاامر کے درجہ میں یامشورہ کے درجہ میں وہ جس درجہ میں ہوگی اس پر اسی کا حکم مرتب ہوگا امر کے حقوق اور ہیں اور مشورہ کے درجہ میں عرض کرچکا ہوں کہ امر کے درجہ میں تو ہونہیں سکتی کیونکہ آمر اور میں مامور نہیں لامحالہ مشورہ کے درجہ میں ہوگی اور مشورہ کا حق یہ ہے کہ اس پر عمل کرنا واجب نہیں ہوتا۔ اب میں اس پر استدلال کرتاہوں حدیث بریرہ سے اس کامضمون یہ ہے کہ بریرہ لونڈی تھیں حضرت عائشہ ؓ کی اور ان کانکاح ہواتھا ایک شخص مغیث نامی سے حضرت عائشہؓ نے ان کو آزاد کردیااور یہ شرعی مسئلہ ہے کہ لونڈی کو آزاد ہونے کے بعد خیارعتق ہوتا ہے یعنی یہ اختیار ہوتا ہے کہ اپنے نکاح کو باقی رکھے یا نہ رکھے ،بریرہؓ نے نکاح کوباقی نہ رکھا،مغیث ؓ کو ان سے بڑی محبت تھی وہ بہت پریشان ہوئے اور بڑی کوشش کی کہ وہ نکاح کو باقی رکھیں ، بریرہ نے نہیں مانا ،مغیث گلیوں میں ان کے پیچھے روتے پھرتے تھے لیکن ان پر کچھ اثر نہ ہوا، مغیث کی حالت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحم آیا اور بریرہ سے فرمایا کہ مغیث سے نکاح کرلو،اب سنئے بریرہ کیاکہتی ہیں کہ یارسول اللہ! کیا آپ مجھ کو یہ حکم دیتے ہیں ؟حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ سفارش کرتاہوں ،بریرہ صاف کہتی ہیں کہ مجھ کو ضرورت نہیں یعنی جب یہ حکم نہیں سفارش ہے، مشورہ ہے تو میں نہیں قبول کرتی ۔ (کذافی جمع الفوائد باب الطلاق المکرہ والمجنون عن