آداب افتاء و استفتاء مع علمی و فقہی مکاتبت و مکالمت |
فادات ۔ |
|
با ب۸ آداب استفتاء احکام سے ناواقف لوگوں کیلئے رسول اللہ ﷺ کی ہدایت.....................................۳۹۵ احکام سے ناواقفیت ایک مرض ہے جس کا علاج مسئلہ معلوم کرنا ہے..................۳۹۶ اپنی فکر کرواور اپنی ضرورت ہی کا مسئلہ پوچھو...............................۳۹۷ فرضی مسائل مت پوچھو..............................۳۹۸ فتویٰ ایسے مفتی سے لو اورمسئلہ ایسے شخص سے پوچھو جس پر پورااطمینان ہو........۳۹۸ مسئلہ کی صورت پوری پوری بیان کردو........................۳۹۹ غیرضروری سوالات کی ممانعت قرآن پاک میں .............۳۹۹ حضرات صحابہ کا عمل............................................................ ۴۰۰ بنی اسرائیل کی بے ادبی اور کثرتِ سوال کا انجام.............................. ۴۰۰ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت وشفقت................................... ۴۰۱ غیر ضروری سوالات کی ممانعت حدیث پاک میں ............................. ۴۰۲ علماء سے ایک شکایت،دقیق غیر ضروری سوالوں کاجواب دینے کا نقصان .. ۴۰۳ غیر ضروری سوال کرنے اور دقیق بحثوں میں پڑنے اور دلیلوں کے پوچھنے کا نقصان.....................۴۰۴ علماء اور مفتیوں کو مشورہ........................................................ ۴۰۵ صرف ضروری اور کام ہی باتیں پوچھئے،فضولیات سے پرہیز کیجئے....... ۴۰۶ فصل(۱) مستفتیوں کے لئے چند ضروری ہدایات وآداب.............................. ۴۰۷ مسئلہ ہر مولوی یا عالم سے نہ پوچھنا چاہئے................................. ۴۰۷