بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
فَہَدَی، وَوَجَدَکَ عَائِلاً فَأَغْنَی، فَأَمَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْہَرْ، وَأَمَّا السَّائِلَ فَلا تَنْہَرْ، وَأَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ۔(الضحی) اے پیغمبر : قسم ہے چڑھتے دن کی روشنی کی ،اور رات کی جب اس کا اندھیرا بیٹھ جائے، کہ تمہارے پروردگار نے نہ تمہیں چھوڑا ہے اور نہ ناراض ہوا ہے،اور یقینا آگے آنے والے حالات تمہارے لئے پہلے حالات سے بہتر ہیں ، اور یقین جانو کہ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے، کیا اس نے تمہیں یتیم نہیں پایا تھا، پھر تمہیں ٹھکانہ دیا؟ اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا، اور تمہیں نادار پایا تو غنی کردیا، اب جو یتیم ہے ، تم اس پر سختی مت کرنا،اور جو سوال کرنے والا ہو، اسے جھڑکنا نہیں ، اور جو تمہارے پروردگار کی نعمت ہے ، اس کا تذکرہ کرتے رہنا۔ پھر اس کے بعد اگلی سورت اتری: أَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ ، وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ، الَّذِي أَنْقَضَ ظَہْرَکَ، وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ، فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً، اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً، فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ، وَإِلَی رَبِّکَ فَارْغَبْ۔( الم نشرح) اے پیغمبر: کیا ہم نے تمہاری خاطر تمہار صلی اللہ علیہ و سلم سینہ کھول نہیں دیا؟ اور ہم نے تم سے تمہارا وہ بوجھ اتار دیا ہے جس نے تمہاری کمر توڑ رکھی تھی،اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارے تذکرے کو اونچا مقام عطا کردیا ہے ،چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے ،یقینا مشکلات کے ساتھ آسانی بھی ہوتی ہے ، لہذا جب تم فارغ ہوجاؤ تو عبادت میں اپنے آپ کو تھکاؤ، اور اپنے پروردگار ہی سے دل لگاؤ۔ mvm