بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
حضرت شقرانؓ نے ایک سرخ دھاری دار چادر بچھادی تھی، پھر اسے اٹھالیا گیا۔ (مدارج النبوۃ:۶۵۹) اب کائنات کا سب سے مبارک وجود آغوشِ قبر میں لٹادیا گیا ہے، کتنا مبارک تھا وہ وجود، اور کتنا بابرکت ہے وہ خطۂ زمین جسے اس سراپا کو اپنے دامن میں سمیٹنے کا شرف عطا ہوا، اور کتنی بابرکت ہے وہ قبر، حضرت حسانؓ کہے بغیر نہیں رہ سکے: فَبُورِکْتَ یَا قَبْرَ الرَّسُوْلِ وَبُوْرِکَتْ بِلَادٌ ثَویٰ فِیْہَاا لرَّشِیْدُ الْمُسَدَّدُ لَقَدْ غَیَّبُوا حِلْمًا وَ عِلْمًا وَ رَحْمَۃً عَشِیَّۃَ عَلَوْہُ الثَّرَیٰ لایُوَسَّدُ وَہَلْ عَدَلَتْ یَوْماً رَزِیَّۃُ ہَالِکٍ رَزِیَّۃَ یَوْمَ مَاتَ فِیْہِ مُحَمَّدُ وَمَا فَقَدَ الْمَاضُوْنَ مِثْلَ مُحَمَّدٍ وَلَاْ مِثْلُہُ حَتَّی الْقِیَامَۃِ یُفْقَدُ اے قبر رسول صلی اللہ علیہ و سلم ! تجھ پر برکتیں نازل ہوں ، وہ خطۂ زمین بابرکت رہے جہاں یہ نبی ہادی وبرحق مقیم ہے،لوگوں نے حلم وبردباری، علم و معرفت اوررحمت و برکت کو اس رات کھو دیا جب لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر مٹی کا ڈھیر چڑھایا، جس میں کوئی فرش تک بچھایا نہیں گیاتھا، کیا کسی بھی جانے والے کا صدمہ آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی رحلت کے اس صدمے کی ہم سری کرسکتاہے؟اب تک ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم جیسا عظیم کوئی انسان اس دنیا سے رخصت نہیں ہوا، اور نہ قیامت تک ان سے زیادہ عظمتوں کا حامل کوئی اس دنیا سے پردہ فرمائے گا۔ (سیرت ابن ہشام:۴/۳۱۳، مختصر سیرۃ الرسول:۴۷۱)