بیانات سیرت نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم |
|
موجود نہیں ہیں ، آشوبِ چشم میں مبتلا ہیں ، انہیں بلایا گیا، آئے، آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں لگایا، معجزہ ظاہر ہوا، درد فوراً ختم ہوگیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے ہاتھ میں علم دیا، فتح کی بشارت سنائی، اور یہ بھی ہدایت کی کہ حملہ سے پہلے دعوت حق ضرور دینا: فَلأَنْ یَہْدِيَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلاً وَاحِداً خَیْرٌ لَکَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ۔ (بخاری:المغازی: غزوۃ خیبر) اگر اللہ تمہارے ذریعہ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے ۔ اس جملہ سے دعوت دین کی اہمیت اور اولیت کا اندازہ ہوتا ہے، اور یہ سبق ملتا ہے کہ امن وجنگ، نارمل وایمرجنسی ہر حال میں امت کو محرومِ ایمان لوگوں میں دعوت کا فرض پورا کرنا چاہئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ علم لے کر بڑھے، مقابلے میں مشہور سردار پہلوان مرحب دندناتا ہوا آیا، اور یہ شعر پڑھا: قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ أَنِّيْ مَرْحَبُ شَاکِيْ السِّلاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں ، ہتھیار پوش بہادر وتجربہ کار۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اس کے جواب میں آگے آئے، حضرت علی کی زبان پر یہ شعر تھا: أَنَا الَّذِيْ سَمَّتَنِی أُمِّي حَیْدَرَہْ کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہْ میری ماں نے میرا نا م حیدر رکھا ہے ،میں جنگل کے شیر کی طرح خوفناک ہوں ۔