ملفوظات حکیم الامت جلد 29 - یونیکوڈ |
|
ایضا دلالہ علی ذلک فان اللہ تعالیٰ قال و خلق منھا زوجھا لیسکن الیھا
ولم یقل و خلق منھا لمرآۃ المعنی المتبادر من الزوج ھو الکمنوحۃ فھذا
وجہ شبع الناکح دون الزانی ( ولعلک قد اطلعت علی فساد قول بعض
الفساق فی صفۃ الزنا این الحلال من الحرام یعنی فی الحلا لیس من
اللذۃ ما ھو فی الحرام ؛ فلذتھم کلذۃ حکۃ من بہ الجرب فی البدن یکحون
الجسد و یلرذوق ولا یشبعون و یظنون ان لیس فی الحکۃ الطبیعۃ من اللذۃ
مافی الجرب و ھذا کماتری ) ففی الزینۃ جذب صرف وفی المنکوحۃ
جذب و انجذاب طبیعی و صفہ اللہ تعالیٰ فی طبع نوعی الانسان لتکمیل
امر بقاء النسل فقد تبین الفرق بین النظر الحلال و ا لحرام ان الحلال
لایکون فیہ جذب کجذب الحرام البتۃ
( 3 ) قولہ بلکہ اپنے نفس پر طھی اطمینان نہیں - حضرت والا کا یہ جملہ گو اپنی نسبت تو اضعا ہو مگر
آپ زر سے لکھنے اور حرز بنانے قابل ہے - کبھی نفس و شیطان سے غافل نہ ہونا چاہیئے -
ان الشیطان لکم عدو فاتخذوہ عدوا
ترجمہ : شیطان تمہارے دشمن ہے اس کو دشمن ہی سمجھو -
مجلس نوزدہم ( 19 )
اللین بالنساء و صحسبتہ بالا مارد گجرات کے پیروں کی بے احیتاطی :
فرمایا قشیری کا قول ہے کہ دو چزیں سخت زہر ہیں - عورتوں کے ساتھ نرمی اور امردوں
کی صحبت - یہ مرض گجرات کے پیروں میں بہت ہے - ہیر سے پردہ نہیں - عورتیں پیر
صاحب کے ہاتھ پیرو باقی ہیں - مرد ہر رہتے ہیں اور پیر صاحب گھر میں رہتے ہیں - ایک
مرتبہ راندیر خلع سورت جانے کا اتفاق ہوا - وہاں لوگوں نے زنانہ مدرسہ میں بلایا اور تقسیم
انعام کا دن تھا - انعام میرے ہاتھ بٹوانا چاہا معلوم ہوا کہ چودہ چودہ پندرہ پندرہ برس کی
لڑکیاں مجمع میں حاضر ہو کر انعام لیتی ہیں - میں شرط کی کہ سات سال سے زیادہ کی لڑکی