ملفوظات حکیم الامت جلد 29 - یونیکوڈ |
|
فوائد و نتائج
حضرت والا کی عادت ہے کہ مناظرہ و مبا حشہ کا رنگ و عظ میں نہیں آنے دیتے - حق بات
مشرع بیاب فرماتے ہیں اور عنوان نہایت نرم ہوتا ہے - مخالفین کو بدلاتا محسوس ہوجاتا ہے کہ
نفسانیت کا شائبہ بھی نہیں - اسی کا یہ اثر ہے کہ بات قلب میں گھس جاتی ہے - اور فاذا الذی
بینک وبینہ عداوۃ کانہ ولی حمیم تعجمہ ؛؛ پس ناگہاں وہ شخص کہ تم میں اور اس میں
عداوت ہے - آپ کا دوست بن جاوے گا '' کا ظہور ہوجاتا ہے - کلام کی خوبی یہی ہے کہ حق
صریح ہو اور نرم ہو پھر حق میں یہ اثر ہے کہ خود دل میں جگہ کرلیتا ہے - خود راقم نے ایک دفعہ دیکھا
لہ ایک جگہ رسوم میں وعظ ہوا - ان لوگوں نے اس سے پہلے حضرت والا کا وعظ کبھی نہ سنا
تھا - بالقصد یہ دیکھنے کو آئے تھے وہابی کیسے ہوتے ہیں - بعد ختم وعظ ایک صاحب فرماتے
ہیں واعظ صاحب نے کوئی بات خلاف نہیں کہی بالکل حق باتیں بیان کیں - ہم دہابیوں سے
بہت چونگتے تھے اگر وہابی ایسے ہوتے ہیں تو ہم بھی آج سے وہابی ہیں - ( یہ قصہ اول وعظ
اشرف المواعظ کا ہے جو مراد آباد میں آیت اقترب للناس حسابھم کے متعلق ہوا تھا )
وعظ کا طریقہ
ایک دوسرے مقام پر ایک شخص سے راقم نے سنا ہے کہ وہ کہتے تھے اس شخص کا
( حضرت والا کا ) ہر کام اللہ واسطے ہے کیسے ٹوکنے کی گنجائش ہوسکتی ہے - یہ صاحب صرف
ایک بار حضرت والا سے ملے تھے اور وعظ سنا تھا - الغرض واعظ کا شیوہ تحقیقات علمی میں اعلیٰ
درجہ کا ہونا اور حق بات بلا اور عایت اور بلا دل آزادی کہنا ہونا چاہئے - ہاں عند الضرورت
جواب ترکی بہ ترکی میں یا جس طرح کی ضرورت پیش آوے مضائقہ نہیں -
مجلس بست وسوم ( 23 )
دعا کی فضیلت اور عملیات میں قیود زائدہ کا حذف : - تین روز متواتر بارش ہوئی -
سینکڑوں مکان گرگئے - کھیتیاں غرق ہوگئیں - مویسی بہہ گئے - خلق خدا سخت پریشان تھی -