خزائن القرآن |
|
آیت نمبر۱۰۳ وَ مَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ یَّشَآءَ اللہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ؎ ترجمہ: اور تم بدون خدائے رب العالمین کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔ جب تک آپ نہیں چاہیں گے کوئی شخص کچھ نہیں چاہ سکتا ۔ ہمارا چاہنا آپ کے چاہنے پر موقوف ہے۔ جب تک آپ کی مشیت نہیں ہوگی ہم آپ کو کیسے چاہ سکتے ہیں۔ اس لیے آپ نے قرآن پاک میں اپنی محبت کو مقدم فرمایا اپنے بندوں کی محبت پر۔ یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ دلیل ہے کہ پہلے آپ بندوں سے محبت فرماتے ہیں پھر آپ کی محبت کے فیضان سے بندے آپ سے محبت کرتے ہیں۔ علامہ آلوسی رحمۃ اﷲ علیہ تفسیر روح المعانی میں اس آیت یُحِبُّھُمْ وَیُحِبُّوْنَہٗ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: قَدَّمَ اللہُ تَعَالٰی مَحَبَّتَہٗ عَلٰی مَحَبَّۃِ عِبَادِہٖ لِیَعْلَمُوْا اَنَّھُمْ یُحِبُّوْنَ رَبَّھُمْ بِفَیْضَانِ مَحَبَّۃِ رَبِّھِمْ اس لیے اے اللہ! ہم آپ سے آپ کی محبت مانگتے ہیں کہ جب آپ ہم سے محبت کریں گے توآپ کی محبت کے فیضان سے ہم لا محالہ آپ سے محبت کریں گے لہٰذا جب تک آپ کا کرم شامل نہ ہو کوئی شخص کسی نیکی اور خیر کو چاہ بھی نہیں سکتا۔ اس لیے خیر اور بھلائی اور نیکی کے ارادے، عزائمِ رُشد و تقویٰ اور گناہوں سے بچنے کے خیالات سب آپ کے فضل و کرم کے تابع ہیں۔ آپ کے ارادے پر مراد کا تخلف محال ہے یعنی آپ کوئی ارادہ فرمائیں اور وہ مراد تک نہ پہنچے اور وہ کام نہ ہو یہ محال اور نا ممکن ہے اور آپ نہ چاہیں اور وہ کام ہوجائے یہ بھی نا ممکن اور محال ہے کیوں کہ آپ کا ارادے پر مراد کا ترتب لازمی ہے لہٰذا اے اللہ! اگر آپ ہمارے نیک بننے کا ارادہ فرما لیں تو ہمارا نیک اور متقی بن جانا لازم ہے اور اس کے خلاف ہونا محال ہے۔ اگر نفس و شیطان اور دنیا بھر کی تمام گمراہ کن ایجنسیاں مل کر کسی کو بہکائیں اور گناہوں میں مبتلا کر کے برباد کرنا چاہیں تو اس شخص کو ہر گز برباد نہیں کر سکتے جس پر اللہ تعالیٰ کی حفاظت کا تالا لگ جائے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ اگر تھانہ والے صرف موم بتی لگا کر کسی تالا کو سر بمہر کر دیں جو اتنی کمزور ہوتی ہے کہ ایک جھٹکا مارو تو کھل جائے لیکن تھانہ کی مہر دیکھ کر بڑے بڑے ڈاکو کانپتے ہیں تو اے اللہ! جس پر ------------------------------