خزائن القرآن |
|
یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی انتہائی قدر اور نگاہِ رسالت میں انتہائی شانِ محبوبیت کی علامت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوارا نہیں ہواکہ حضرت عبداللہ بن مسعود جوتوں میں بیٹھ جائیں لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود کی اتباع دیکھیے کہ انہوں نے اگر مگرنہیں لگایا، جو اگر مگر لگاتا ہے وہ عاشق نہیں ہوتا۔ ایک اللہ والے بزرگ فرماتے ہیں ؎ مرضی تری ہر وقت جسے پیشِ نظر ہے بس اس کی زباں پر نہ اگر ہے نہ مگر ہےآیت نمبر۱۶ وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾ ؎ ترجمہ: اور یہ بات محقق ہے کہ حق تعالیٰ نے بدر میں تم کو منصور فرمایاحالاں کہ تم بے سرو سامان تھے سو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کروتاکہ تم شکر گزار ہو۔اصلی شکر کیا ہے؟ وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ اللہ نے جنگِ بدر میں تمہاری مدد فرمائی حالاں کہ تم کمزور تھے تو اس کا شکریہ کیا ہے؟ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ پس تقویٰ سے رہو، گناہ سے بچو تاکہ تم شکر گزار بندے بن جاؤ۔ معلوم ہوا کہ صرف زبانی شکر کافی نہیں، زبان سے کہنا کہ اللہ! تیرا شکر ہے اور آنکھوں سے بدنظری کرنا یہ حقیقی شکر نہیں، زبان سے بھی شکر ادا کرو اور عمل سے بھی شکر ادا کرو۔ شکرِ لسانی سنّت ہے اور شکرِ عملی یعنی تقویٰ فرض ہے لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَسے معلوم ہوا کہ شکر گزاری کے لیے تقویٰ ضروری ہے۔ دیکھیے اگر کسی کا بیٹا زبان سے ہر وقت باپ کا شکریہ ادا کرتا ہے لیکن باپ کی بات نہیں مانتا تو کیا باپ کا دل خوش ہو گا ؟لہٰذا اصلی شکر گزاری تقویٰ ہے۔ ------------------------------