خزائن القرآن |
|
لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللہِکی عجیب تقریر اے نبی! آپ کہہ دیجیے، اللہ تعالیٰ نبی رحمت سے کہلا رہے ہیں، کلام اللہ تعالیٰ کا ہے مگر بواسطۂ نبوت ہے کہ قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اے میرے بندوں! جنہوں نے اپنے اوپرظلم کرلیا! دیکھیے! کیا شان ہے کہ مسرفین عَلٰۤی اَنْفُسِہِمْ کو بھی یاء نسبتی لگاکر اپنا فرمارہے ہیں گویا اپنی ذاتِ پاک سے لگارہے ہیں،گناہ گار بندوں کو بھی میرا فرما رہے ہیں، باوجود گناہوں کے ان کو اپنے سے جدا نہیں فرمایا، اپنی نسبت قائم رکھی، اپنی بندگی سے نہیں نکالا، قُلۡ یٰعِبَادِیَ اے نبئ رحمت! میں اپنی رحمت کا اعلان تو کر رہاہوں، مگر کس کے واسطہ سے؟ جو خود سراپا رحمت ہیں، مجسم رحمۃ للعالمینسے اللہ تعالیٰ کہلا رہے ہیں کہ اے نبئ رحمت!آپ میرے بندوں سے فرما دیجیے کہ میںارحم الراحمین ہوں اور آپ رحمۃ للعالمین ہیں۔ میں اپنی رحمت کو نبئ رحمت کے واسطے سے بیان کررہا ہوں تاکہ میرے بندوں کو دوگنا مزہ آئے گا اور رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے کہنے سے وہ میری رحمت کے اور زیادہ امیدوار ہو جائیں گے، میری رحمت اور نبی کی رحمت دو رحمتوں سے مل کر شرابِ محبت، شرابِ رحمت اور تیز ہو جائے گی ؎ نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں مئے مرشد کو مئے حق میں ملا لینے دو اللہ تعالیٰ کی محبت کی شراب اور مرشد کی محبت کی شراب جب دونوں مل جاتی ہیں تو نشہ تیز ہو جاتا ہے۔ اصلی مرشد تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کو سارے عالم کے لیے نبی بنایا ہے وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّارَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ آپ تو سارے عالم کے لیے رحمت ہیں، سارے عالم کے لیے نبی ہیں، تو ارحم الراحمین بواسطہ رحمۃ للعالمین اپنی رحمت کا اعلان فرما رہے ہیں کیوں کہ میں تو غیبوبت میں ہوں، ان کی نگاہوں سے پوشیدہ ہوں، میرے آثار و نشانات سے بندے مجھے پہچانتے ہیں لیکن میرا نبی تو ان کی آنکھوں کے سامنے ہے، ان کی رحمت و شفقت کو تو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں تو رحمۃ للعالمین کی رحمت کودیکھ کر ان کو ارحم الراحمین کی رحمت کا یقین آئے گا اس لیے اے نبی! (صلی اللہ علیہ وسلم)آپ کہہ دیجیے یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ، اے میرے گناہ گار بندو! آہ! کیا رحمت ہے کہ گناہ گار بھی فرما رہے ہیں اور میرے بھی فرما رہے ہیں،یاء نسبتی لگا کر اللہ تعالیٰ نے مزہ بڑھا دیاکہ اگرچہ یہ نالائق ہیں مگر میرے ہیں، تو یاء کیوں لگایا یعنی میرے کیوں فرمایا؟ مارے میّا کے، مارے محبت کے کیوں کہ جب باپ کہے کہ میرے بیٹے تو سمجھ لو کہ اس