خزائن القرآن |
|
رہو گے، کسی وقت تم ہماری محتاجی اور دائرۂ فقر سے نکل نہیں سکتے۔ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ اِلَی اللہِتم ہمارے فقیر ہو اور فقیر کا کام مانگنا ہے لہٰذا ہمیشہ ہم سے مانگتے رہو اور مانگنے کے لیے پیالہ چاہیے چوں کہ تم دائمی فقیر ہو اس لیے ہم تم کو دائمی پیالہ دے رہے ہیں تاکہ رات کو اُٹھ کر تمہیں الماری میں پیالہ تلاش نہ کرنا پڑے۔ اگر رات کے بارہ بجے بھی تمہیں کوئی حاجت ہو تو اُٹھو، دونوں ہاتھوں کو ملاؤ اور پیالہ بن گیا اب ہم سے مانگو، یہ سرکاری پیالہ ہے، میں نے تمہیں یہ سرکاری پیالہ دیا تھا تم نے اس سے چوری کیوں کی، مجھ سے کیوں نہیں مانگا، اس سرکاری پیالہ میں تم نے حرام مال کیوں رکھا، تم سرکار کی توہین کرتے ہو، سرکار کی عزت کے خلاف کام کرتے ہو، تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں سرکاری پیالہ دیا جائے لہٰذا پیالہ واپس کرو، تمہاری سزا یہ ہے کہ سرکاری پیالہ اب تم سے واپس لے لیا جائے لہٰذا کٹوایا نہیں جاتا واپس لیا جاتا ہے۔ عنوان ہے کٹوانے کا۔ فَاقْطَعُوْاکا حاصل یہ ہے کہ سرکاری پیالہ واپس کرو تم اس کے اہل نہیں ہو۔آیت نمبر۷۴ اِنَّمَا یَخۡشَی اللہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا؎ ترجمہ: خدا سے وہی بندے ڈرتے ہیں جو (اس کی عظمت کا) علم رکھتے ہیں۔علم اور خشیت لازم و ملزوم ہیں جس طرح آگ کے لیے حرارت اور برف کے لیے بر ودت لازم ہے اسی طرح علمِ صحیح کے لیے خشیت لازم ہے ۔اگر خشیت نہ ہو تو علمِ صحیح اس کو نہ کہاجائے گا کہ انتفا لازم انتفا ملزوم کو مستلزم ہے اور یہ لزوم منصوص ہے۔ لِقَوْلِہٖ تَعَالٰی شَانُہٗ: اِنَّمَا یَخۡشَی اللہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا اور لِقَوْلِہٖ عَلَیْہِ السَّلَا مُ: وَاللہِ اِنِّیْ لَاَعْلَمُکُمْ بِاللہِ عَزَّ وَجَلَّ وَ اَخْشٰکُمْ لَہٗ؎ ------------------------------