خزائن القرآن |
|
یہ عالَم، عالَمِ امتحان ہے اس لیے اپنی نشانیاں ظاہر فرما دیں اور ان نشانیوں کے پردے میں خود کو چھپا دیا تاکہ امتحان باقی رہے اور اہلِ عقل اور اہلِ نظر ان نشانیوں کو دیکھ کر ہم پر فدا ہو جائیں۔ مولانا اصغر گونڈوی فرماتے ہیں ؎ رِدائے لالہ و گل، پردۂ مہہ و انجم جہاں جہاں وہ چھپے ہیں عجیب عالَم ہے یہاں حق تعالیٰ ہم سے ایمان بالغیب چاہتے ہیں۔ مولانا رومی حق تعالیٰ کی طرف سے حکایتاً فرماتے ہیں ؎ یُؤْمنوں بِالْغَیبِ می باید مرا تا بہ بستم روزنِ فانی سرا اے میرے بندو! میں تم سے ایمان بالغیب چاہتا ہوں لہٰذا اس عالمِ فانی میں، میں نے کوئی سوراخ اور دریچہ نہیں رکھا جس سے تم مجھے دیکھ سکو۔ میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ اس عالم میں ایمان بالغیب اور اعمالِ صالحہ سے ہماری آنکھیں بنائی جارہی ہیں اور جب آنکھیں بنائی جاتی ہیں تو آنکھوں پر پٹی باندھ دی جاتی ہے، کچھ نظرنہیں آتا، آخرت میں یہ پٹی ہٹا دی جائے گی اور آنکھیں کھول دی جائیں گی اور وہاں ان آنکھوں میں اللہ تعالیٰ مشاہدۂ تجلیاتِ الٰہیہ کی صلاحیت پیدا فرما دیں گے۔ اور حضرت یہ بھی فرماتے تھے کہ حدیثِ احسان میں ہے: اَنْ تَعْبُدَ اللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ؎ اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت کرو گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو۔ تو فرماتے تھے کہ اس دنیا میںکَاَنَّکَ رہے گا کیوں کہ یہاں آنکھیں بنائی جا رہی ہیں، جنّت میں کَاَنَّکَ کے کاف کی پٹی ہٹا دی جائے گی وہاں اَنَّکَ سے دیکھو گے۔ مولانا رومی فرماتے ہیں کہ اگر اس دنیا میں پردۂ عالمِ غیب اُٹھا دیا جاتا تو مشاہدۂ اُمورِ غیب سے انتظامِ معاش درہم برہم ہو جاتا اور پھر امتحان بھی نہ رہتا تو اہلِ ایمان کو جزا اور اہلِ طغیان کو سزا کس چیز پر ملتی؟ ایمان بالغیب کی بعض حکمتیں حق تعالیٰ نے انسان کی عقل کو عطا فرمائیں لیکن پوری حکمت کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ ------------------------------