خزائن القرآن |
|
تو اللہ تعالیٰ کے وجود پر استدلال کر سکتے ہو کہ اس کی مصنوعات و آثار و نشانیاں سارے عالم میں پھیلی ہوئی ہیں۔ کائنات کا ایک ایک ذرّہ، سمندروں کا ایک ایک قطرہ، درختوں کا ایک ایک پتّا اللہ تعالیٰ کے وجود کی خبر دیتا ہے۔ اسی لیے ایمان والوں کی شان اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرمائی : وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ہمارے خاص بندے آسمانوں اور زمینوں میں تفکر کرتے ہیں چوں کہ اس عالمِ ناسوت میں ہم اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے کیوں کہ یہ عالم محدود ہے اور حق تعالیٰ کی ذات غیر محدود ہے اور غیر محدودمحدود میں کیسے آسکتا ہے؟ اگر اللہ تعالیٰ اس عالم میں اپنے آپ کو دِکھا دیں تو سارا عالم فنا ہو جائے کیوں کہ اس عالم کی تخلیق مادّہ سے ہوئی ہے اور مادہ میں مشاہدۂ تجلیاتِ الٰہیہ کا تحمل نہیں۔ اسی لیے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: تَفَکَّرُوْا فِی الْخَلْقِ وَلَا تَتَفَکَّرُوْا فِی الْخَالِقِ فَاِنَّکُمْ لَا تَقْدِرُوْنَ قَدْرَہٗ؎ اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور کرو، اللہ کی ذات میں غور مت کرو کیوں کہ تم اس کا اندازہ نہیں کر سکتے کہ تمہاری عقلِ محدود اس ذاتِ غیر محدود کے احاطہ سے قاصر ہے، فہمِ محدود میں ذاتِ غیرِ محدود کا اِدراک محال ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور کرو کیوں کہ تم بھی مخلوق ہو اور یہ عالم بھی مخلوق ہے اور مخلوق کی رسائی مخلوق تک ہو سکتی ہے کہ کائنات کے عجائبات کو دیکھ کر اور ان میں غور کر کے تم اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پہچان کرانے کے لیے یہ عالم پیدا فرمایا ہے۔ میرے شیخ شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ عالم عَلَمْ سے ہے جس کے معنی ہیں نشانی۔ پس سارا عالم ان کی نشانی ہے اس عالم کے ذرّہ ذرّہ میں اپنی نشانیاں بکھیر دیں تاکہ میری نشانیوں میں تم مجھ کو پاجاؤ۔ اسی کو مولانا اصغر گونڈوی فرماتے ہیں ؎ میرے سوالِ وصل پہ پیہم سُکوت ہے بکھرا دیے ہیں کچھ مہہ و انجم جواب میں ------------------------------