خزائن القرآن |
|
کے ذمے کس قدر متعین ہے یعنی کتنی محبت اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے بندوں سے چاہتے ہیں اور کس قدر محبت ہو تو انسان اللہ کا پورا فرماں بردار ہو سکتا ہے۔ دنیا کی محبت جائز، ماں باپ کی، بال بچوں کی، کاروبار کی، مال و دولت کی، ان چیزوں کی محبت شدید بھی جائز ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری فطرت بیان فرمائی ہے: وَ اِنَّہٗ عَلٰی ذٰلِکَ لَشَہِیۡدٌ ؎ حضرت عمررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں کسی جنگ کی فتح کا مالِ غنیمت جب مسجدِ نبوی میں آیا اور مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مال کا ڈھیر لگ گیا اس وقت آپ نے فرمایا کہ یا اللہ! یہ مالِ غنیمت دیکھ کر میرا دل خوش ہوا اور محبت اس کی ہے مگر آپ اپنی محبت کو دنیا کی تمام محبتوں پر غالب فرما دیجیے تو معلوم ہوا کہ محبت شدید بھی جائز ہے اور محبت حبیب بھی جائز ہے یعنی اس کو حبیب بنا لینا بھی جائز ہے۔ تو حبیب کا اطلاق یہاں مخلوق کے لیے ہے لیکن اَحبّ اور اشد محبت اللہ تعالیٰ کی ہونی چاہیے، اگر اللہ تعالیٰ کی محبت احب اور اشد نہیں ہے تو پھر بندہ پورا فرماںبردار نہیں ہو سکتا۔ دل سے بھی زیادہ، جان سے بھی زیادہ، اہل و عیال سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ ہمیں پیارے ہونے چاہئیں چناں چہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس محبت کو اس عنوان سے طلب فرمایا ہے اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَ اَھْلِیْ وَمِنَ الْمَآءِ الْبَارِدِ یا اللہ! اپنی محبت میرے اندر میری جان سے زیادہ عطا فرما دیں اور اہل و عیال سے بھی زیادہ اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ یعنی پیاسے کو جتنا ٹھنڈا پانی عزیز ہوتا ہے اس سے بھی زیادہ اے اللہ! آپ مجھے محبوب ہوں تو معلوم ہوا یہ خطوط اور حدود ہیں محبت کے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائے۔ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث شریف کے اس آخری جُز کا اپنے ایک شعر میں گویا ترجمہ کر دیا ہے، یہیں کعبہ شریف میں غلافِ کعبہ پکڑ کر عرض کیا ؎ پیاسا چاہے جیسے آبِ سرد کو تیری پیاس اس سے بھی بڑھ کر مجھ کو ہو جس طریقہ سے ایک پیاسے کو ٹھنڈا پانی پی کر رگ رگ میں سیرابی اور ایک نئی جان عطا ہوتی ہے خدا تعالیٰ کے عاشقوں کو اللہ کا نام لے کر ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ ------------------------------