خزائن القرآن |
|
ہے لہٰذا اس کا علاج یہی ہے کہ استغفار کر کے تم ہم کو راضی کر لو۔ یہ بہت بڑا ذکر ہے اس سے بڑا ذکر کیا ہو گا کہ تم اپنے مالک کو راضی کر لو لہٰذا اس آیت کی تلاوت کی یہ وجہ تھی کہ استغفار بہت بڑا ذکر ہے اَلَا بِذِکۡرِ اللہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ جلدی استغفار اور جلدی توبہ کر کے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ کر تم اللہ تعالیٰ کو خوش کردو۔یہ بہت بڑا ذکر ہے، اس کی برکت سے تم چین و سکون پا جاؤ گے ورنہ کہیں سکون نہیں پاؤگے ؎ دل گلستاں تھا تو ہر شے سے ٹپکتی تھی بہار دل بیاباں ہوگیا عالم بیاباں ہوگیا جب دل تباہ ہوتا ہے تو سارا عالم اندھیرا لگتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لو گے تو ان شاء اللہ! اس کی برکت سے دل باغ و بہار ہو جائے گا، چین آجائے گا اور جب دل میں چین ہوتا ہے تو سارے عالم میں چین نظر آتا ہے، جب دل غم زدہ ہوتا ہے تو سارے عالم میں غم نظر آتا ہے۔ یہ آنکھیں تابعِ دل ہیں، بصارت تابعِ بصیرت ہے یعنی قلب کا جو حال ہوگا آنکھ کا وہی حال ہوگا۔ اگر دل خوش ہے تو ہر طرف خوشی نظر آئے گی اور اگر دل میں غم ہے تو ہر طرف غم نظر آئے گا اور اللہ تعالیٰ سے استغفار اور توبہ اور ذکر کی برکت سے دل میں چین آئے گا تو سارے عالم میں آپ کو چین ملے گا، بال بچوں میں بھی سکون سے وہی آدمی رہتا ہے۔ اور جس کا دل گناہوں سے پریشان رہتا ہے وہ اپنی بیوی سے بھی لڑتا ہے، بچوں کی بھی پٹائی کرتا ہے، ہر شخص سے اُلجھتا ہے کیوں کہ اس کا دل معتدل اور نارمل (normal)نہیں ہے مثل پاگل ہو جاتا ہے۔ پاگل آدمی ہر ایک کو ستاتا ہے پاگل کا کیا بھروسہ۔ یاد رکھو جو عقل کا خالق ہے جب اس کو راضی کرو گے تو عقل ٹھیک رہے گی ورنہ جو جتنا گناہ کرتا ہے عقل خراب ہوتی چلی جاتی ہے اور عقل کی خرابی سے آدمی پاگل ہوتا ہے اور پاگل نہ خود چین سے رہتا ہے نہ چین سے رہنے دیتا ہے۔ آج کا جو مضمون ہے بس اللہ تعالیٰ کا کرم ہے اور آج کیا سارے عالم میں اخترؔ جہاں جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مدد شاملِ حال ہوتی ہے ؎ آپ چاہیں ہمیں ہے کرم آپ کا ورنہ ہم اس کرم کے تو قابل نہیں بزرگوں کی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کی ستاری اور پردہ پوشی اور رحمت کی یاری اور بارش ہے۔