حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نہ کی جائے)۔ 1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں: حضورِ اقدس ﷺ اپنے کچھ صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں!معلوم ہے۔ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، میری اطاعت حقیقت میں اللہ کی اطاعت میں شامل ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں! معلوم ہے۔ ہم گواہی دیتے ہیں جس نے آپ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور آپ کی اطاعت اللہ کی اطاعت میں شامل ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت میں یہ شامل ہے کہ تم میری اطاعت کرو، اور میری اطاعت میں یہ شامل ہے کہ تم اپنے امیروں کی اطاعت کرو۔ اگر وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔1 حضرت اسماء بنتِ یزید ؓ فرماتی ہیںکہ حضرت ابوذر غِفَاری ؓ حضورِ اَقدس ﷺ کی خدمت کیا کرتے تھے۔ جب حضور ﷺ کی خدمت سے فارغ ہو جاتے تو مسجد میں آجایا کرتے۔ مسجد ہی ان کا گھر تھا، اسی میں وہ لیٹ جایا کرتے تھے۔ ایک رات حضور ﷺ مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت ابو ذر مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے سو رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے ان کو اپنے پائوں سے (اٹھانے کے لیے ہلکی سی) ٹھوکر ماری، وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا میں تمہیں مسجد میں سوتا ہوا نہیںدیکھ رہا ہوں؟ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اور کہاں سوئوں؟ اس مسجد کے علاوہ میرا اور کوئی گھر نہیں ہے۔ پھر حضور ﷺ اُن کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا: جب لوگ تم کو (کسی اجتماعی ضرورت کی وجہ سے) اس مسجد سے نکالیں گے تو تم کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا:میں ملکِ شام چلا جائوں گا، کیوںکہ شام (پہلے انبیا ؑ کی) ہجرت کی جگہ ہے اور وہاں ہی میدانِ حشر ہو گا اور وہ انبیاکی سر ز مین ہے (وہاں بہت نبی ہوئے) اور میں وہاں والوں میں سے بن جائوں گا (یعنی وہیں رہنے لگ جائوں گا)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جب لوگ تمہیں ملکِ شام سے بھی نکال دیں گے تو پھر کیا کرو گے؟ انھوں نے کہا: میں اسی مسجد میں یعنی مدینہ میں واپس آجائوں گا، یہی میرا گھر اور میری منزل ہوگی۔ آپ نے فرمایا: جب لوگ تمہیں اس مسجد سے یعنی مدینہ سے دوبارہ نکال دیں گے تو پھر تمہارا کیا ہوگا؟ انھوںنے کہا: میں تلوار لے کر مرتے دم تک (اُن سے) لڑتا رہوں گا۔ حضور ﷺ انھیں دیکھ کر مسکرائے اور انھیں ہاتھ سے تھپکی دی اور فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتادوں؟ انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! ضرور بتا دیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! حضور ﷺ نے فرمایا: وہ تمہیں آگے سے پکڑ کر جدھر لے جائیں تم اُدھرچلے جانا اور وہ پیچھے سے تمہیں جدھر کو چلائیں تم اُدھر کو چلے جانا، (یعنی