حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
حضرت زید بن وہب ؓ کہتے ہیں: حضرت حذیفہ ؓ کے زمانہ میں لوگوں نے ایک امیر کی کسی بات پر اعتراض کیا۔ ایک آدمی سب سے بڑی جامع مسجد میں داخل ہو ا اور لوگوں میں سے گزرتاہوا حضرت حذیفہ کے پاس پہنچ گیا۔ وہ ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ آدمی ان کے سر کے قریب کھڑ ے ہو کر کہنے لگا: اے رسول اللہ ﷺ کے صحابی! کیا آپ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرتے ہیں؟ حضرت حذیفہ نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور وہ آدمی جو کچھ چاہتا تھا اسے سمجھ گئے تو اس سے فرمایا: امر بالمعروف اور نہی عن المنکرواقعی بہت اچھا کام ہے، لیکن یہ سنّت میں سے نہیں ہے کہ تم اپنے امیر پر ہتھیار اٹھائو۔1 حضرت زِیاد بن کُسَیْب عدوی ؓ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عامر باریک کپڑے پہن کر اور بالوں میں کنگھی کر کے لوگوں میں بیان کیا کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے نماز پڑھائی اور پھر اندر چلے گئے اور حضرت ابو بکرہ ؓ منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ مِرد اس ابو بلال نے کہا: کیا آپ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ لوگوں کے امیر باریک کپڑے پہنتے ہیں اور فاسق لوگوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں؟ حضرت ابو بکرہ نے اُن کی بات سن لی اور اپنے بیٹے اُصَیْلَع سے کہا: ابو بلال کو میرے پاس بلا کر لائو۔ وہ انھیں بلا کر لائے تو اُن سے حضرت ابو بکرہ نے فرمایا: غور سے سنو! تم نے ابھی امیر کے بارے میں جو کہاہے وہ میں نے سن لیا ہے، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو اللہ کے سلطان کا اکرام کرے گا اللہ اس کا اکرام کریںگے، اور جو اللہ کے سلطان کی اِہانت کرے گا اللہ اس کی اِہانت کریں گے۔2 حضرت علی بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک اَنصاری کو ایک جماعت کا امیر بنا کر بھیجا اور اس جماعت کو تاکید فرمائی کہ اپنے امیر کی بات سنیں اور مانیں۔ چناںچہ (اس سفر میں) امیر کو اُن کی کسی بات پر غصہ آگیا تو اس نے کہا: میرے لیے لکڑیاں جمع کرو۔ چناںچہ انھوں نے لکڑیاں جمع کیں۔ پھر اس امیرنے کہا: آگ جلائو۔ اس پر ان لوگوں نے آگ جلائی۔ پھر اس امیر نے کہا: کیا آپ لوگوں کو حضور ﷺ نے اس بات کا حکم نہیں دیا کہ آپ لوگ میری بات سنو اور مانو؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! حکم دیا ہے۔ اس امیر نے کہا: تو پھر تم اس آگ میں داخل ہوجائو۔ (لوگوں کا امتحان لینا مقصود تھا) اس پر لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور یوں کہا: ہم تو آگ سے بھاگ کر حضور ﷺ کے پاس آئے تھے۔ (اتنی دیر میں) اس امیر کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا اور آگ بھی بجھ گئی۔ جب یہ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں واپس پہنچے تو حضور ﷺ سے اس قصہ کا ذکر کیا۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: اگر یہ لوگ اس آگ میں داخل ہوجاتے تو کبھی اس سے باہر نہ نکل سکتے۔ (یعنی یہ بات نہیں تھی کہ امیر کے ماننے کی وجہ سے آگ ان کو نہ جلاتی اوریہ زندہ آگ سے باہر آجاتے بلکہ جل کر مرجاتے) امیر کی اطاعت صرف نیکی کے کاموں میں ضروری ہے (گناہ کے کاموں میںاس کی اطاعت