حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
آپ ان پر تیسری مرتبہ جھکے، پھر آپ نے سر اٹھایا تو اس دفعہ آپ سسکیاں لے رہے تھے جس سے صحابہ سمجھے کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس پر صحابہ بھی رونے لگے تو حضورﷺ نے فرمایا: ٹھہرو! یہ آواز سے رونا شیطان کی طرف سے ہے۔ اللہ سے استغفار کرو۔ پھر حضرت عثمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابو السائب! تم غم نہ کرو۔ تم دنیا سے چلے گئے اور تم نے دنیا سے کچھ نہ لیا۔1 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضورﷺ نے حضرت عثمان ؓ کے انتقال کے بعد ان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے عثمان! اللہ تم پر رحم فرمائے! نہ تو تم نے دنیا سے کوئی فائدہ اٹھایا اور نہ ہی دنیا تمہارے پاس آئی۔2حضرت سلمان فارسی ؓ کا زہد حضرت عطیّہ بن عامر ؓکہتے ہیں: میں نے ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی ؓکو دیکھا کہ وہ کھانا کھا رہے تھے۔ ان سے مزید کھانے کا اصرار کیا گیا تو انھوں نے کہا: میرے لیے یہی کافی ہے، میرے لیے یہی کافی ہے، کیوںکہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا میں زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے قیامت کے دن زیادہ بھوکے ہو ں گے۔ اے سلمان! دنیا مؤمن کے لیے جیل خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت (کہ مؤمن اللہ تعالیٰ کے اَحکام کا خود کو پابند کر کے چلتا ہے اور کافر اپنی مرضی پر چلتا ہے۔)3 حضرت حسن ؓ کہتے ہیں: حضرت سلمان ؓ کو بیت المال سے پانچ ہزار وظیفہ ملتا تھا اور وہ تقریباً تیس ہزار مسلمانوں کے امیر تھے۔ اُن کا ایک چُغّہ تھا جس کے کچھ حصہ کو نیچے بچھا کر باقی کو اوپر اوڑھ لیا کرتے تھے اور اسی چُغّہ کو پہن کرلوگوں میں بیان کیا کرتے تھے۔ جب انھیں وظیفہ ملتا تو اسے اسی وقت آگے خرچ کر دیا کرتے اس میں سے اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے تھے، اور اپنے ہاتھ سے کھجور کے پتّوں کی ٹوکریاں بناتے تھے اور اس کی کمائی سے گزارا کرتے تھے۔1 حضرت اعمش ؓ کہتے ہیں: میں نے لوگوں کو یہ قصہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ حضرت حذیفہؓ نے حضرت سلمان ؓکو یہ فرمایا: اے ابو عبد اللہ! (یہ حضرت سلمان ؓکی کنیت ہے) کیا میں تمہارے لیے ایک کمرا نہ بنادوں؟ حضرت سلمان کو یہ بات بری لگی تو حضرت حذیفہ نے کہا: ذرا ٹھہرو تو سہی، سن تو لو میں تمہارے لیے کیسا کمرا بنانا چاہتا ہوں؟ میں تمہارے لیے ایسا کمرا بنانا چاہتا ہوں کہ جب تم اس میں لیٹو تو تمہارا سر ایک دیوار کو لگے اور پاؤں دوسری دیوار کو، اور جب تم کھڑے ہو تو تمہارا سر چھت کو لگے۔ حضرت سلمان نے کہا: ایسا معلوم ہو تا ہے کہ تم تو میرے دل میں رہتے ہو، یعنی اب تم نے میرے دل کی بات کہی ہے۔2 حضرت مالک بن انس ؓ کہتے ہیں: حضرت سلمان فارسی ؓ (کسی درخت کے سایہ) میں بیٹھا کرتے تھے (اور مسلمانوں