حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
گے تو ان کا فائدہ تمہیںبھی ہو گا، اور اگر وہ غلط کام کریں گے تو اس کا خمیازہ ان کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ تمہیں ہر حال میں ان کا اکرام کر نا چاہیے۔1 حضرت راشد بن سعد ؓ کہتے ہیں: حضرت عمر بن خطّاب ؓ کے پاس کچھ مال آیا۔ آپ اس مال کو لوگوں میں تقسیم کرنے لگے۔ آپ کے پاس لوگوں کا بڑا مجمع ہو گیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ مجمع کو چِیرتے ہوئے اُن کے پاس آپہنچے۔ حضرت عمر کو ڑا لے کر اُن پر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: تم تو اس طرح آگے آرہے ہو جیسے کہ تم زمین پر اللہ کے سلطان سے ڈرتے نہیں ہو ۔ میں بھی تمہیں بتانا چا ہتا ہوں کہ اللہ کا سلطان تم سے نہیں ڈرتاہے۔2 حضرت عبد اللہ بن یزید ؓ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن عاص ؓ کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا۔ اس لشکر میں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ؓ بھی تھے۔ جب یہ حضرات لڑائی کی جگہ پہنچے تو حضرت عمرو نے لشکر کو حکم دیا کہ آگ بالکل نہ جلائیں۔ حضرت عمر کو اس پر غصہ آگیا اور انھوں نے جا کر حضرت عمرو سے اس بارے میں بات کرنے کا ارادہ کیا۔ تو حضرت ابو بکر نے انھیں ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: حضور ﷺ نے ان کو تمہارا امیر اس وجہ سے بنا یا ہے کہ وہ جنگی ضروریات کو خوب جانتے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ٹھنڈے پڑگئے (اور حضرت عمرو کے پاس نہ گئے)۔ 1 حضرت جُبَیْر بن نُفَیْرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عِیاض بن غَنَم اَشعری ؓ نے دارا شہر فتح ہو جانے کے بعد اس کے حاکم کو (کوڑوں سے) سزا دی۔ حضرت ہِشام بن حکیم ؓ ان کے پاس آئے اور (حاکم کو سزا دینے پر) ان کو سخت بات کہی۔ چند دن گزرنے کے بعد حضرت ہشام حضرت عیاض کے پاس معذرت کرنے کے لیے آئے اور حضرت عیاض سے (اپنی سختی کی وجہ بتاتے ہوئے) کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب اسے ہو گا جو دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب دیتا تھا۔ حضرت عیاض نے ان سے کہا: اے ہشام! ہم نے بھی وہ سب کچھ (حضور ﷺ سے) سنا ہے جو آپ نے سنا ہے اور ہم نے بھی وہ سب کچھ دیکھا ہے جو آپ نے دیکھا ہے اور ہم بھی اسی ذاتِ اَقدس ﷺ کی صحبت میں رہے ہیں جن کی صحبت میں آپ رہے ہیں۔ اے ہشام! کیا آپ نے حضور ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جو کسی بادشاہ کو نصیحت کرنا چاہتا ہو تو اسے علی الاعلان لوگوں کے سامنے نصیحت نہ کرے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے علیحدگی میں لے جائے (اور تنہائی میں اسے نصیحت کرے)۔ اگر بادشاہ اس کی نصیحت قبول کرلے تو ٹھیک ورنہ اس نے اس بادشاہ کا حق ادا کردیا۔ اور اے ہشام! تم بہت بے باک ہو اور اللہ کے بادشاہ کے خلاف دلیری کرتے ہو، کیا تمہیں اس بات کا ڈر نہیں تھا کہ اللہ کا سلطان تمہیں قتل کر دیتا اور تم اللہ کے بادشاہ کے قتل کیے ہوئے کہلاتے۔2