حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح کرنے سے انجام اچھا ہو گا۔1 حضرت عوف بن مالک اَشجْعی ؓ فرماتے ہیں: میں بھی ان مسلمانوں کے ساتھ سفر میں گیا جو غزوۂ مُوتہ میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کے ساتھ تھے۔ یمن سے لشکر کی مدد کے لیے آنے والے ایک صاحب اس سفرمیںمیرے ساتھی بن گئے۔ اس کے پاس اس کی تلوار کے علاوہ اور کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ ایک مسلمان نے ایک اُونٹ ذبح کیا۔ میرے اس ساتھی نے اس مسلمان سے اُونٹ کی کھال کا ایک ٹکڑا مانگا، انھوں نے اسے ایک ٹکڑا دے دیا جسے لے کر اس نے ڈھال جیسا بنا لیا۔ پھر ہم وہاں سے آگے چلے۔ ہمارا رومی لشکروں سے مقابلہ ہوا۔ ان رومیوں میں ایک آدمی اپنے سرخ گھوڑے پر سوار تھا جس کی زین اور ہتھیار پر سونے کا پانی چڑھا ہوا تھا۔ وہ رومی مسلمانوں کو بڑے زور شور سے قتل کرنے لگا۔ مدد کے لیے آنے والا یمنی ساتھی اس کی تاک میں ایک چٹان کے پیچھے بیٹھ گیا۔ وہ رومی جوںہی اس کے پاس سے گزرا اس نے حملہ کر کے اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ وہ رومی زمین پر گر پڑا۔ اس کے اوپر چڑھ کر یمنی نے اسے قتل کردیا اور اس کے گھوڑے اور ہتھیار پر قبضہ کر لیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرما دی تو حضرت خالد بن ولید ؓ نے (جن کو آخر میں مسلمانوں نے امیر بنا لیا تھا) اس یمنی کو بلا کر اس سے مقتول رومی کا سارا سامان لے لیا۔ حضرت عوف کہتے ہیں کہ میں نے حضرت خالدکے پاس جا کر اُن سے کہا: اے خالد! کیا تمہیں معلوم نہیںہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قاتل کے لیے مقتول کے سامان کا فیصلہ کیا تھا؟ حضرت خالد نے کہا: مجھے معلوم ہے، لیکن مجھے یہ سامان بہت زیادہ معلوم ہو رہا ہے۔ میں نے کہا: یا توآپ یہ سامان اس یمنی کو واپس دے دیں، نہیں تو میں رسول اللہ ﷺ سے آپ کی شکایت کروں گا اور پھر آپ کو پتہ چل جائے گا۔ لیکن حضرت خالدنے وہ سامان واپس کرنے سے انکار کردیا۔ (اس سفر سے واپسی پر) ہم لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچے تو میں نے اس یمنی کا قصہ اور جو کچھ حضرت خالدنے کیا تھا وہ سب حضور ﷺ کو بتا یا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اے خالد! تم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے وہ سامان بہت زیادہ معلوم ہوا۔ آپ نے فرمایا: اے خالد! تم نے اس سے جو کچھ لیا ہے وہ اسے واپس کردو۔ حضرت عوف کہتے ہیں: اس پر میں نے حضرت خالدسے کہا: اے خالد! لو میں نے تم سے جو کہاتھا وہ پورا کردیا نا،کہ حضور ﷺ سے شکایت کر کے تمہیں سزا دلوائوں گا؟ حضور ﷺ نے فرمایا: یہ کیا بات ہے؟ میں نے آپ کو ساری تفصیل بتائی۔ اس پر حضور ﷺ ناراض ہو گئے اور آپ نے فرمایا: اے خالد! وہ سامان واپس نہ کرو۔ (اور صحابہ ؓ سے متوجہ ہوکرفرمایا:) کیا تم میری وجہ سے میرے امیروں کو چھوڑ نہیں دیتے؟ (کہ ان کی بے اکرامی نہ کیاکرو، بلکہ ان کا احترام کیاکرو) ان کے اچھے کام تمہارے لیے مفید ہیں اور ان کے برے کا م کا وبال ان ہی پر ہوگا۔ یعنی اگر وہ اچھے اعمال کریں