حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اظہار کر سکتے ہیں) کیوںکہ تمام گھروں میں حسنِ معاشرت کی بنیاد (میاں بیوی کی) محبت ہی نہیں ہوتی بلکہ بعض گھروں میں (میاں بیوی میں محبت نہیں ہوتی لیکن حسنِ معاشرت کی) بنیاد خاندانی شرافت اور اسلام ہوتا ہے۔1 حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ حضرت عاتکہ بنتِ زید بن عمرو بن طفیلؓ حضرت عبد اﷲ بن ابی بکر صدیق ؓ کے نکاح میں تھیں۔ حضرت عبد اﷲ کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی۔ حضرت عبد اﷲ نے ان کو ایک باغ اس شرط پر دیا کہ وہ ان کے مرنے کے بعد کسی سے شادی نہیں کریں گی۔ غزوۂ طائف میں حضرت عبد اﷲ کو ایک تیر لگا تھا جس کا زخم اس وقت تو ٹھیک ہوگیا، لیکن حضورﷺ کی وفات کے چالیس دن بعد وہ زخم پھر ہرا ہو گیا جس سے حضرت عبد اﷲ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی بیوی حضرت عاتکہ نے مرثیہ میں یہ اشعار کہے: وَآلَیْتُ لَا تَنْفَکُّ عَیْنِيْ سَخِیْنَۃً عَلَیْکَ وَلَا یَنْفَکُّ جِلْدِیْ أَغْبَرَا مَدَی الدَّ ھْرِ مَا غَنَّتْ حَمَامَۃُ أَیْکَۃٍ وَمَا طَرَدَ اللَّیْلَ الصَّبَاحُ الْمُنَوَّرَا اور میں نے قسم کھائی ہے کہ زندگی بھر اس وقت تک میری آنکھیں آپ پر گرم آنسو بہاتی رہیں گی (غم کے آنسو گرم ہوتے ہیں) اور میرا جسم گرد آلود رہے گا (یعنی میں زیب و زینت نہیں کروں گی) جب تک گھنے جنگل کی کبوتری گاتی رہے گی اور رات کے بعد روشن صبح آتی رہے گی، یعنی ہمیشہ روتی رہوں گی۔ پھر حضرت عمر بن خطّابؓ نے ان کو شادی کا پیغام دیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ حضرت عبد اﷲ نے مجھے اس شرط پر ایک باغ دیا تھا کہ میں ان کے بعد شادی نہ کروں گی۔ حضرت عمر نے کہلوا دیا کہ کسی عالم سے شادی کے بارے میں مسئلہ پوچھ لو۔ تو انھوں نے حضرت علی بن ابی طالبؓ سے پوچھا۔ حضرت علی نے فرمایا: حضرت عبد اﷲ کے ورثا کو باغ واپس کر دو اور شادی کر لو (چناںچہ انھوں نے باغ واپس کر دیا اور) حضرت عمر سے شادی کرلی۔ اور حضورﷺ کے چند صحابہ کو ایک آدمی بھیج کر ولیمہ کے لیے بلایا۔ ان صحابہ میں حضرت علی بن ابی طالب بھی تھے اور حضورﷺ کے صحابہ میں سے حضرت علی کا حضرت عبد اﷲ بن ابی بکر سے بھائی چارہ کا تعلق تھا۔ حضرت علی نے حضرت عمر سے کہا: آپ مجھے اجازت دیں تو میں حضرت عاتکہ سے کچھ بات کر لوں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: کرلو۔ حضرت علی نے کہا: اے عاتکہ! (تم نے یہ شعر کہا تھا اب اس کے خلاف کرلیا) وَآلَیْتُ لَا تَنْفَکُّ عَیْنِيْ سَخِیْنَۃً عَلَیْکَ وَلَا یَنْفَکُّ جِلْدِیْ أَصْفَرَا