حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
عبادت کیا کرو اور ایک رات اس کے ساتھ گزارا کرو۔ حضرت عمر نے فرمایا: تمہارا یہ فیصلہ تو مجھے تمہاری پہلی بات سے بھی زیادہ پسند آیا ہے۔ پھر حضرت عمر نے حضرت کعب کو بصرہ کا قاضی بنا کر بھیج دیا۔2 یشکری نے حضرت شعبی ؓ سے یہی واقعہ اس سے زیادہ لمبا نقل کیا ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ حضرت عمرؓ نے اس عورت سے کہا: تم مجھے سچ بات بتائو اور حق بات کے ظاہر کرنے میں کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے کہا: اے امیر المؤ منین! میں ایک عورت ہوں، مجھ میں بھی وہ خواہش ہے جو عورتوں میں ہوا کرتی ہے۔ عبد الرزاق ؓ حضرت قتادہ ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک عورت نے آکر حضرت عمر سے کہا: میرا خاوند رات بھر عبادت کرتا ہے اور دن بھر روزہ رکھتا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: کیا تم مجھے یہ کہنا چاہتی ہو کہ میں اسے رات کی عبادت سے اور دن کے روزے سے روک دوں؟ وہ عورت چلی گئی۔ دوبارہ آکر اس نے وہی بات پھر کہی۔ حضرت عمر نے پھر وہی جواب دیا۔ اس پر حضرت کعب بن سور ؓنے کہا: اے امیر المؤمنین! اس عورت کا بھی حق ہے۔ حضرت عمر نے کہا: کیا حق ہے؟ حضرت کعب نے کہا: اﷲ تعالیٰ نے اس کے خاوند کے لیے چار بیویاں حلال قرار دی ہیں تو آپ اس عورت کو چار بیویوں میں سے ایک شمار کرلیں، اسے ہر چار راتوں میں سے ایک رات اور ہر چار دنوں میں سے ایک دن ملنا چاہیے۔ چناںچہ حضرت عمر نے اس کے خاوند کو بلا کر کہا کہ ہر چار راتوں میں سے ایک رات اپنی بیوی کے پاس گزارا کرو اور ہر چار دنوں میں سے ایک دن اس کی وجہ سے روزہ نہ رکھا کرو۔1 حضرت ابو غرزہؓ حضرت ابنِ ارقمؓ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی بیوی کے پاس لے گئے اور اس سے کہا: کیا تم مجھ سے بغض رکھتی ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ حضرت ابنِ ارقم نے کہا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابو غرزہ نے کہا: کیوںکہ لوگ میرے بارے میں بہت زیادہ باتیں کرنے لگ گئے تھے۔ حضرت ابنِ اَرقم نے جا کر حضرت عمر بن خطابؓکو یہ بات بتائی۔ حضرت عمر نے حضرت ابو غرزہ کو بلا کر کہا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت ابو غرزہ نے کہا: کیوںکہ لوگ میرے بارے میں بہت زیادہ باتیں کرنے لگ گئے تھے۔ حضرت عمر نے حضرت ابو غرزہ کی بیوی کو بلایا، وہ بھی آئی اور اس کے ساتھ ایک پھوپھی بھی آئی جسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ پھوپھی نے اس سے کہا: اگر حضرت عمر تم سے پوچھیں کہ تم نے ایسا صاف جواب کیوں دیا ؟ تو تم کہہ دینا کہ انھوں نے قسم دے کر مجھ سے پوچھا تھا (کہ کیا تم مجھ سے بغض رکھتی ہو ؟) اس لیے جھوٹ بولنا مجھے برا لگا۔ چناںچہ حضرت عمر نے اس سے پوچھا: تم نے یہ بات کیوں کہی؟ حضرت ابو غرزہ کی بیوی نے کہا کہ انھوں نے مجھے قسم دے کر پوچھا تھا اس لیے جھوٹ بولنا میں نے مناسب نہ سمجھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: نہیں، تمھیں جھوٹ بول دینا چاہیے تھا اور کوئی اچھی بات کہہ دینی چاہیے تھی۔ (میاں بیوی تعلقات اچھے رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے جھوٹی محبت کا