حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
میں نے قسم کھائی ہے کہ میری آنکھیں آپ پر گرم آنسو بہاتی رہیں گی اور میرا جسم گردآلود رہے گا۔ (یہ سن کر حضرت عاتکہؓ زور سے رو پڑیں) حضرت عمرؓ نے فرمایا: اﷲ آپ کو معاف کرے! میری بیوی کا ذہن خراب نہ کریں۔1 حضرت میمونہ ؓکی آزادکر دہ باندی حضرت نُدبہؓ فرماتی ہیں کہ حضرت میمونہ نے مجھے (اپنے بھانجے) حضرت ابنِ عباسؓ کے پاس بھیجا۔ میں ان کے پاس گئی تو میں نے دیکھا کہ ان کے گھر میں دو بستر بچھے ہوئے ہیں (ایک ان کا اور ایک ان کی بیوی کا)۔ میں نے واپس جاکر حضرت میمونہ سے کہا: میرے خیال میں تو حضرت ابنِ عباس نے اپنی بیوی کو چھوڑ رکھا ہے۔ حضرت میمونہ نے حضرت ابنِ عباس کی بیوی بنتِ سرج کندی کو پیغام بھیج کر بلایا اور ان سے پوچھا (کیا تمھیں حضرت ابنِ عباس نے چھوڑ رکھا ہے؟) حضرت بنتِ سرج نے کہا: نہیں، میرے اور ان کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے، وہ تو آج کل مجھے حیض آرہا ہے (اس لیے بستر الگ الگ کر رکھے ہیں)۔ اس پر حضرت میمونہ نے حضرت ابنِ عباس کو یہ پیغام بھیجا کہ تم حضورﷺ کی سنت سے اِعراض کر رہے ہو۔ حضورﷺ حالتِ حیض میں بھی اپنی بیویوں کے ساتھ لیٹا کر تے تھے۔ البتہ آپ کی بیویاں گھٹنے یا آدھی پنڈلی تک کپڑا ڈال لیا کرتی تھیں۔2 حضرت عکرمہ ؓکہتے ہیں: یہ مجھے پتا نہ چل سکا کہ کھانا کس نے دوسرے کے لیے تیار کیا تھا، حضرت ابنِ عباسؓ نے یا ان کے چچازاد بھائی نے۔ بہرحال یہ حضرات کھانا کھا رہے تھے اور ایک باندی ان کے سامنے کام کر رہی تھی کھانا وغیرہ لارہی تھی کہ ان میں سے کسی نے اس باندی سے کہا: او زانیہ! تو حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: ایسے نہ کہو، اگر اس باندی کی وجہ سے تمھیں دنیا میں حدِ شرعی نہ لگ سکی تو آخرت میں تو ضرور لگے گی۔ اس آدمی نے کہا: اگر بات واقعی ایسی ہی ہو جیسی میں نے کہی ہے تو؟ حضرت ابنِ عباس نے فرمایا: (اگر بات ایسی ہو بھی سہی تو بھری مجلس میں کہنی نہیںچاہیے، کیوںکہ) اﷲ تعالیٰ فحش گو اور قصداً بدکلامی کرنے والے کو پسند نہیں فرماتے۔ اورفحش گو اور بد کلامی والے کو اﷲ کے پسند نہ کرنے کی بات حضرت ابنِ عباس نے خود کہی تھی۔1 حضرت ابو عمران فلسطینی ؓکہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاصؓکی بیوی ان کے سر میں سے جوئیں نکال رہی تھی۔ ان کی بیوی نے اپنی باندی کو آواز دی۔ باندی نے آنے میں دیر کردی تو ان کی بیوی نے کہا: او زانیہ! حضرت عمرو نے کہا: کیا تم نے اسے زنا کرتے دیکھا ہے؟ ان کی بیوی نے کہا: نہیں۔ حضرت عمرو نے کہا: اﷲ کی قسم! تمھیں اس باندی کی وجہ سے قیامت کے دن اسّی کوڑے مارے جائیں گے۔ ان کی بیوی نے اس باندی سے معافی مانگی، باندی نے معاف کر دیا۔ حضرت عمرو نے کہا: یہ بے چاری تمھیں کیوں معاف نہ کرے؟ یہ تمہاری ماتحت جو ہے، اسے آزاد کرو۔ ان کی بیوی نے کہا: کیا یہ آزاد کرنا کافی ہو جائے گا؟ (پھر مجھے آخرت میں سزا تو نہیں ملے گی؟) حضرت عمروؓ نے کہا: ہاں! اُمید ہے۔2