حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس میں نہیں ہے۔ اس عورت نے کہا: اے امیر المؤ منین! آپ جلدی نہ کریں۔ اﷲ کی قسم! آیندہ میں کبھی (شکایت کی) اس مجلس میں نہیں بیٹھوں گی (یعنی کبھی شکایت نہیں لگائوں گی)۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ اس عورت کو تین کپڑے دیے جائیں۔ اور اس عورت سے کہا: میں نے جو تجھے مارا ہے یہ کپڑے اس کے بدلے میں لے لو۔
راوی کہتے ہیں کہ وہ قصہ مجھے ایسا یاد ہے کہ گویا کہ میں اب بھی اس عورت کو کپڑے لے کر اٹھتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ پھرحضرت عمر نے اس عورت کے خاوند کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم نے جو مجھے اس کو سزا دیتے ہوئے دیکھا ہے اس کی وجہ سے تم اس کے ساتھ برا سلوک نہ شروع کر دینا۔ انھوں نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا۔ چناںچہ وہ میاں بیوی دونوں واپس چلے گئے۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری اُمت کا بہترین زمانہ وہ ہے جس میں میں ہوں، پھر دوسرا زمانہ، پھر تیسرا زمانہ، پھر اس کے بعد ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو گواہی دینے سے پہلے ہی قسمیں کھانے لگ جائیں گے اور ابھی ان سے گواہی مانگی نہ جائے گی کہ وہ پہلے ہی گواہی دینے لگ جائیں گے اور بازاروں میں شور مچاتے پھریں گے۔1
حضرت شعبی ؓکہتے ہیں کہ ایک عورت حضرت عمر بن خطابؓ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی کہ میں آپ کے پاس ایسے آدمی کی شکایت کرنے آئی ہوں جو تمام دنیا والوں سے زیادہ بہتر ہیں، ان سے بہتر وہی آدمی ہو سکتا ہے جو اِن سے زیادہ عمل کرے یا ان کے برابر عمل کرے۔ وہ رات سے صبح تک عبادت کرتے ہیں اور صبح سے شام تک روزہ رکھتے ہیں۔ اتنا بتانے کے بعد اس عورت کو شرم آگئی اور اس نے کہا: اے امیرالمؤ منین! آپ مجھے معاف فرما دیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اﷲ تمھیں جزائے خیر عطا فرمائے! تم نے اس آدمی کی بہت اچھی تعریف کی ہے۔ میں نے تمھیں معاف کر دیا ہے۔ جب وہ عورت چلی گئی تو حضرت کعب بن سُور ؓنے کہا: اے امیر المؤمنین! اس عورت نے آپ سے شکایت کرنے میں کمال کر دیا ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس نے کیا شکایت کی ہے؟ حضرت کعب نے کہا: اس نے اپنے خاوند کی شکایت کی ہے۔ حضرت عمر نے کہا: اس عورت کو میرے پاس لائو۔ اور اسی طرح آدمی بھیج کر اس کے خاوند کو بھی بلایا۔ جب وہ دونوں آگئے تو حضرت عمر نے حضرت کعب سے کہا: تم ان دونوںمیں فیصلہ کرو۔ حضرت کعب نے کہا: آپ کے ہوتے ہوئے میں فیصلہ کروں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ حضرت عمر نے کہا: تم اس کی شکایت کو سمجھ گئے میں نہ سمجھ سکا اس لیے تم ہی فیصلہ کرو۔ حضرت کعب نے کہا: اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَـکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ}1
اور عورتوں میںسے جو تم کو پسند ہوں نکاح کر لو دو دو عورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چار چار عورتوں سے۔
اس کے خاوند سے کہا: تم تین دن روزہ رکھا کرو اور ایک دن افطار کرو، اور اس کے پاس رہاکرو۔ اور تین رات نفل