حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہوتی جتنی مجھے تمہارے گٹھلیا ں سر پر لانے سے ہوئی ہے۔ اس کے بعد حضرت ابو بکرؓ نے میرے پاس ایک باندی بھیجی جس نے گھوڑے کی دیکھ بھال اور خدمت کے تمام کام سنبھال لیے، تو مجھے ایسے لگا کہ جیسے انھوں نے مجھے قید سے آزاد کر دیا ہو۔1 حضرت عکرمہ ؓکہتے ہیں کہ حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ حضرت زبیر بن عوّام ؓ کے نکاح میں تھیں۔ حضرت زبیران پر سختی کیا کرتے تھے۔ حضرت اسماء نے جا کر اپنے ابا جان سے حضرت زبیر کی شکایت کی۔ حضرت ابو بکر نے فرمایا: اے میری بیٹی! صبرکرو، کیوںکہ جب کسی عورت کا نیک خاوند ہو، پھر وہ خاوند مر جائے اور وہ عورت اس کے بعد اور شادی نہ کرے تو ان دونوں کو جنت میں جمع کر دیا جائے گا۔1 حضرت کہمس ہلالی ؓکہتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک عورت آکر حضرت عمر کے پاس بیٹھ گئی۔ اور اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے خاوند کا شر بڑھ گیا ہے اور اس کی خیرکم ہوگئی ہے۔حضرت عمر نے پوچھا: تمہارا خاوند کون ہے؟ اس نے کہا: حضرت ابوسلمہؓ۔ حضرت عمر نے فرمایا: انھیں تو حضورﷺ کی صحبت حاصل ہے اور وہ سچے آدمی ہیں۔ حضرت عمر کے پاس ایک آدمی بیٹھاہوا تھا اس سے حضرت عمر نے فرمایا: کیا وہ آدمی ایسے نہیں ہیں؟ اس آدمی نے کہا: اے امیر المؤمنین! آپ نے ان کے بارے میں جو کہا ہے ہمیں بھی یہی معلوم ہے۔ پھر حضرت عمر نے ایک آدمی سے کہا: جائو ابوسلمہ کو میرے پاس بلا کر لائو۔ جب حضرت عمر نے اس عورت کے خاوند کے پاس آدمی بھیجا تو وہ عورت اٹھ کر حضرت عمر کے پیچھے آکر بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر میں وہ آدمی اس عورت کے خاوند حضرت ابو سلمہ کو بلا کر لے آیا اور وہ آکر حضرت عمر کے سامنے بیٹھ گئے۔ حضرت عمر نے فرمایا: یہ میرے پیچھے بیٹھی ہوئی عورت کیا کہہ رہی ہے؟ حضرت ابو سلمہ نے پوچھا: اے امیر المؤمنین! یہ عورت کون ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: یہ آپ کی بیوی ہے۔ حضرت ابو سلمہ نے کہا: یہ کیا کہہ رہی ہے؟ حضرت عمر نے فرمایا: یہ کہہ رہی ہے کہ آپ کی خیر کم ہوگئی ہے اور آپ کا شر زیادہ ہو گیا ہے۔ حضرت ابو سلمہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! اس نے بہت بری بات کہی ہے۔ یہ اپنے قبیلہ کی نیک عورتوں میں سے ہے، لیکن اس کے پاس کپڑے ان سب عورتوں سے زیادہ ہیں، اور گھر میں سہولت اور راحت کا سامان بھی سب سے زیادہ ہے، بس اتنی بات ہے کہ اس کا خاوند بوڑھا ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے اس عورت سے کہا: اب تم کیا کہتی ہو؟ اس نے کہا: یہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ حضرت عمر کوڑا لے کر اس عورت کی طرف بڑھے اور کوڑے سے اس کی خبر لی۔ پھر فرمایا: اے اپنی جان کی دشمن! تو اس کا سارا مال کھاگئی اور اس کی جوانی فنا کر دی اور اب اس کی ایسی شکایت لگا رہی ہے جو