حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
پتا چل جائے گا کہ میں جاگ رہا ہوں اور شاید یہ آپ کو اچھا نہ لگے۔ پھر آپ بستر کے پاس آئے اور وہ لنگی اتار کر دونوں کپڑے پہن لیے، پھر نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لے گئے اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ پھر میں بھی اٹھا اور وضو کر کے آپ کے بائیں طرف آکر کھڑا ہو گیا۔ آپ نے پیچھے سے ہاتھ سے مجھے پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا۔ آپ نے تیرہ رکعتیں پڑھیں میں نے بھی آپ کے ساتھ تیرہ رکعتیں پڑھیں۔ پھر آپ بیٹھ گئے میں بھی آپ کے پاس بیٹھ گیا۔ پھر آپ کو اونگھ آگئی جس کی وجہ سے آپ کا رخسار مبارک میرے رخسار کے قریب آگیا اور مجھے آپ کے سانس کی آواز ایسے سنائی دے رہی تھی جیسے کہ سونے والے کی ہوتی ہے۔ پھرحضرت بلالؓ نے آکر کہا: نماز یارسول اﷲ! حضور ﷺ کھڑے ہو کر مسجد تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، حضرت بلال نے نماز کے لیے اقامت کہی۔1 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک بڑھیا حضورﷺ کی خدمت میں آئی۔ حضورﷺ نے اس سے پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا: جثّامہ مُزنیہ۔ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، آج سے تمہارا نام حسّانہ مُزنیہ ہے۔ تم کیسی ہو؟ تمہارا کیا حال ہے ؟ ہمارے بعد تم لوگ کیسے رہے؟ اس نے کہا: یا رسول اﷲ! خیریت ہے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! جب وہ باہر چلی گئی تو میں نے کہا: یا رسول اﷲ! آپ نے اس بڑھیا پر بڑی توجہ فرمائی؟ حضورﷺ نے فرمایا: اے عائشہ! یہ خدیجہ(ؓ) کے زمانے میں ہمارے پاس آیا کرتی تھی اور پرانے تعلقات کی رعایت کرنا ایمان میں سے ہے۔2 حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: ایک بڑھیا حضورﷺ کے پاس آیا کرتی تھی، حضورﷺ اس کے آنے سے بہت خوش ہوتے تھے اور اس کا اِکرام فرماتے تھے۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ اس بڑھیا کا جتنا خیال فرماتے ہیں اتنا کسی اور کا نہیں فرماتے۔ حضورﷺ نے فرمایا: یہ خدیجہ(ؓ) کے پاس آیا کرتی تھی، اور کیا تمھیں معلوم نہیں کہ تعلق اور محبت والے کا اکرام کرنا ایمان میں سے ہے۔3 حضرت ابو الطفیلؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ حضورﷺ جِعِرّانہ میں گوشت تقسیم فرما رہے تھے۔ میں اس وقت نو عمر لڑکا تھا اور اُونٹ کا ایک عضو اٹھا سکتا تھا کہ اتنے میں ایک عورت حضورﷺ کے پاس آئی۔ حضورﷺ نے اس کے لیے اپنی چادر بچھائی۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ حضورﷺ نے بتایا: یہ ان کی وہ ماں ہیں جنھوں نے آپ کو بچپن میں دودھ پلایا تھا۔4 حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا حبشی لڑکا حضورﷺ کی کمر دبا رہا ہے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اﷲ! کیا آپ کو کوئی تکلیف ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: اُونٹنی نے آج رات مجھے گرا دیا تھا۔1