حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اپنے والدین سے مشورہ کر کے فیصلہ کرنا۔ حضورﷺ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے حضورﷺ کے چھوڑنے کا ہرگز مشورہ نہیں دیں گے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا ہے: { یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ قُلْ لّاَِزْوَاجِکَ}(دو آیتیں)۔ میں نے کہا: کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ ہرگز نہیں۔ میں تو اﷲ، اس کے رسول اور آخرت کو چاہتی ہوں۔ پھر حضورﷺ نے اپنی تمام بیویوں کو اختیار دیا لیکن سب نے وہی جواب دیا جو حضرت عائشہؓ نے دیا تھا۔2
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے ہم ازواجِ مطہّرات کو (اپنے پاس رہنے، نہ رہنے میں) اختیار دیا تھا اور ہم نے آپﷺ کے پاس رہنے کو ہی اختیار کیا تھا اور حضور ﷺ نے اسے ہم پر کوئی طلاق وغیرہ شمار نہ کیا۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو (اگرچہ تم دونوں حالتیں مجھ سے چھپاتی ہو لیکن) مجھے پتا چل جاتا ہے۔ میں نے کہا: آپ کو اس کا کیسے پتا چلتا ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو توکہتی ہو: نہیں، محمد کے رب کی قسم! اور جب تم ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو: نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم! میں نے کہا: جی ہاں۔ اﷲ کی قسم! یا رسول اﷲ!میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں، دل میں آپ کی محبت میں کمی نہیں ہوتی۔1
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں حضورﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھی۔ میں نے دوڑ میں حضورﷺ سے مقابلہ کیا تو میں حضورﷺ سے آگے نکل گئی اور یہ مقابلہ پیدل دوڑنے میں ہوا تھا۔ پھر جب میرا جسم بھاری ہوگیا تو پھر میں نے آپ سے دوڑ میں مقابلہ کیا لیکن اس مرتبہ حضورﷺ مجھ سے آگے نکل گئے اور آپ نے فرمایا: میری یہ جیت تمہاری اس جیت کے بدلہ میں ہے۔2
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت میمونہؓ (خالہ جان) کا مہمان بنا اور اس رات حضرت میمونہ نے (حیض کی وجہ سے) نماز نہیں پڑھنی تھی۔ لیٹتے وقت وہ ایک چادر لائیں پھر دوسری چادر لائیں جسے بستر کے سرہانے رکھ دیا۔ پھر انھوں نے لیٹ کر اپنے اوپر چادر ڈال لی اور اپنے پہلو میں میرے لیے بھی ایک بستر بچھا دیا، اور میں ان کے پاس ان کے تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گیا۔ پھر حضورﷺ تشریف لائے آپ عشاء کی نماز پڑھ چکے تھے۔ بستر کے پاس آکر سرہانے سے وہ چادر اٹھائی اور اسے لنگی کے طور پر باندھا اور اپنے دونوں کپڑے اُتار کر ٹانگ دیے پھر حضرت میمونہ کے ساتھ ان کی چادر میں لیٹ گئے۔ آخر رات میں آپ کھڑے ہو کر ایک لٹکے ہوئے مشکیزہ کی طرف گئے۔ آپﷺ نے اسے کھو لا اور اس سے وضو کرنے لگے۔ میرا ارادہ ہوا کہ میں کھڑے ہو کر پانی ڈالوں لیکن پھر میں نے سوچا کہ اس طرح حضورﷺ کو