حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تھے کہ اتنے میں حضرت ابوبکر ؓ آئے اور انھوں نے اندر جانے کی اجازت مانگی لیکن انھیں نہ ملی۔ پھر حضرت عمر ؓ نے آکر اجازت مانگی تو انھیں بھی نہ ملی، لیکن تھوڑی دیر کے بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی۔ دونوں حضرات اندر گئے تو حضورﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے اِردگرد آپ کی ازواجِ مطہّرات بیٹھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ بالکل خاموش تھے۔ حضرت عمرنے اپنے دل میں کہا کہ میں ضرور ایسی بات کروں گا جس سے حضورﷺ کو ہنسی آجائے، تو انھوں نے کہا: یا رسول اﷲ! اگر آپ دیکھتے کہ میری بیوی بنتِ زید نے ابھی مجھ سے خرچہ مانگا تھا تو میں نے اس کی گردن پر مارا تھا۔ یہ سن کر حضورﷺ ہنس پڑے اور اتنے ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر حضورﷺ نے فرمایا: یہ بھی میرے چاروں طرف بیٹھی ہوئی مجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر حضرت عائشہؓکو مارنے کے لیے ان کی طرف اٹھے، اور حضرت عمر حضرت حفصہؓ کی طرف اُٹھے۔ دونوں کہہ رہے تھے: تم دونوں حضورﷺ سے وہ کچھ مانگتی ہو جو اِن کے پاس نہیں ہے۔ حضورﷺ نے ان دونوں حضرات کو مارنے سے روک دیا تو آپ کی ازواجِ مطہّرات کہنے لگیں: اﷲ کی قسم! اس مجلس کے بعد ہم کبھی حضورﷺ سے ایسی چیز نہیں مانگیں گی جو حضورﷺ کے پاس نہ ہو۔
پھر اﷲ نے اختیار دینے والی آیت نازل فرمائی جس میںا زواجِ مطہّرات کو حضور ﷺ کے پاس رہنے، نہ رہنے میں اﷲ نے اختیار دیا ہے۔ حضورﷺ سب سے پہلے حضرت عائشہ کے پاس گئے اور ان سے فرمایا: میں تمہارے سامنے ایک بات رکھوں گا لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم اس میں جلد بازی سے کام نہ لینا بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کر کے کوئی فیصلہ کرنا۔ حضرت عائشہ نے پوچھا: وہ بات کیا ہے؟ حضورﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لّاَِزْوَاجِکَ}1
اے نبی! آپ اپنی بیبیوں سے فرما دیجیے کہ تم اگر دنیوی زندگی (کا عیش) اور اس کی بہار چاہتی ہو توآئو! میں تم کو کچھ مال ومتاع (دنیوی) دے دوں اور تم کو خوبی کے ساتھ رخصت کروں۔ اور اگر تم اﷲ کو چاہتی ہو اور اس کے رسول کو اور عالمِ آخرت کو تو تم میں نیک کرداروں کے لیے اﷲ تعالیٰ نے اجرِ عظیم مہیا کر رکھا ہے۔
حضرت عائشہؓ نے کہا: کیا میں آپ کے بارے میں والدین سے مشورہ کروں؟ ہرگز نہیں، بلکہ میں تو اﷲ اور اس کے رسول کو ہی اختیار کروں گی۔ اور میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کو نہ بتائیں کہ میں نے کیا اختیار کیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا بناکر نہیں بھیجا بلکہ سکھانے والا اور آسانی کرنے والا بناکر بھیجا ہے، تمہارے اختیار کے بارے میں جو عورت بھی پوچھے گی میں اسے بتا دوں گا۔1
حضرت ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ جب اختیار والی آیت نازل ہوئی تو حضورﷺ نے اپنی بیویوں میں سے سب سے پہلے مجھ سے پوچھا اور فرمایا: میں تمہارے سامنے ایک بات رکھوں گا تم اس میں جلدی فیصلہ نہ کرنا بلکہ