حیاۃ الصحابہ اردو جلد 2 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ہیں کہ حضورﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ اور یہ واقعہ پردے کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ میں نے دل میں کہا کہ میں اس طلاق والی بات کا پتا ضرور چلائوں گا (کہ حضورﷺ نے دی ہے یا نہیں)۔ پھر حضرت عمرنے حضرت عائشہ اور حضرت حفصہؓ کے پاس جا کر انھیں نصیحت کرنے کی تفصیل بتائی، پھر فرمایا: میں حضورﷺ کی خدمت میں گیا تو آپ کے غلام حضرت رباحؓ بالاخانے کی دہلیز پر موجود تھے۔ میں نے آواز دے کر کہا: اے رباح! مجھے حضورﷺ سے اندر آنے کی اجازت لے دو۔ پھر آگے پچھلی حدیث جیسا مضمون ذکر فرمایا۔پھر فرمایا: میں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! عورتوں کا معاملہ آپ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے، اگر آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے تو کوئی فکر اور پریشانی کی بات نہیں ہے، کیوںکہ اﷲ آپ کے ساتھ ہیں اور اﷲ کے فرشتے، حضرت جبرائیل، حضرت میکائیل، میں، حضرت ابوبکر اور سارے مسلمان آپ کے ساتھ ہیں۔ اور میں اس بات پر اﷲ کی تعریف کرتا ہوں کہ جب بھی میں کوئی بات کہا کرتا تھا تو مجھے اُمید ہوتی تھی کہ اﷲتعالیٰ ضرور میری بات کی تصدیق فرمائیں گے۔ چناںچہ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی:
{عَسٰی رَبُّہٗ اِن طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْـدِلَہٗ اَزْوَاجًا خَیْْرًا مِّنْکُنَّ}
اور یہ آیت نازل ہوئی:
{وَاِنْ تَظٰـہَرَا عَلَیْْہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلٰئہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَج وَالْمَلٰٓـئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ o}1
اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیبیاں دے دے گا۔ اور اگر (اسی طرح) پیغمبر کے مقابلے میں تم دونوں کاروائیاں کرتی رہیں تو یاد رکھو کہ پیغمبر کا رفیق اﷲ ہے اور جبرائیل ہے اور نیک مسلمان ہیں، اور ان کے علاوہ فرشتے (آپ کے) مددگار ہیں۔
میں نے پوچھا: کیا آپ نے انھیں طلاق دے دی ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں۔ پھر میں نے مسجد کے دروازے میں کھڑے ہو کر زور سے اُونچی آواز میں اعلان کیا کہ حضور ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
{وَاِذَا جَآئَ ہُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِہٖج وَلَوْ رَدُّوْہُ اِلَی الرَّسُوْلِ وَاِلٰی اُولِی الْاَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْبِطُوْنَہٗ مِنْہُمْ}2
اور جب ان لوگوں کو کسی امر کی خبر پہنچتی ہے خواہ امن ہو یا خوف تو اس کو مشہور کر دیتے ہیں، اور اگر یہ لوگ اس کو رسول کے اور جو اِن میں ایسے امور کو سمجھتے ہیں ان کے اوپر حوالہ رکھتے تو اس کو وہ حضرات پہچان ہی لیتے جو اِن میں اس کی تحقیق کر لیا کرتے ہیں۔
حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: اس طلاق کے بارے میں میں نے ہی تحقیق کی تھی۔3
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ اپنے مکان میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ حضور ﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے